جنوب ایشیائی ممالک میں اور خاص طور پر پاکستان میں والدین اپنی اولاد کو اس تصور اور جذبے کے تحت پروان نہیں چڑھاتے کہ وہ بڑا ہو کر معاشرے کے لیے کارآمد اور مفید ثابت ہو یا ایک اچھا انسان بنے بلکہ وہ انہیں اپنے بڑھاپے کا سہارا اور آسائشوں کا ایک ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے میں رائج عام تصور ہے اور اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
والدین کی اکثریت سمجھتی ہے کہ جب ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا وقت گھر میں بستر پر کٹے گا تو یہ کما کر لائیں گے اور ہم فخر سے دوسروں کو بتائیں گے کہ ہماری اولاد کتنی فرماں بردار ہے۔ اگر کہیں اولاد کی تربیت میں کمی رہ گئی اور دوسری کوتاہیوں کی وجہ سے وہ نکمی نکل آئی تو یہی میاں بیوی ایک دوسرے کو طعنے دیں گے، خاندان کو برا بھلا کہیں گے یا پھر معاشرے کو اس کا قصور وار ٹھہرائیں گے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اولاد کو انسان نہیں، بلکہ ایک طویل المیعاد سرمایہ کاری سمجھ لیا ہے۔ ایک ایسی انشورنس پالیسی جس کی قسطیں ہم بچپن میں پڑھائی اور پرورش کی شکل میں بھرتے ہیں، اور بڑھاپے میں سود سمیت منافع کی توقع رکھتے ہیں۔ جب یہ سرمایہ کاری ہماری مرضی کے مطابق منافع نہیں دیتی، تو ہمیں خسارے کا احساس ہوتا ہے اور ہم غصے میں بھر جاتے ہیں۔ پھر ہمیں اپنی تربیت کی خامیاں نظر نہیں آتیں، بلکہ خون کی خرابی اور زمانے کی بے حسی یاد آنے لگتی ہے۔
ہمارے ہاں اکثر والدین بچّوں پر احسان جتاتے تھکتے نہیں کہ ہم نے پیٹ کاٹ کر تمہیں پالا اور تمھاری خاطر طرح طرح کی قربانیاں دی ہیں، لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا کوئی بچّہ اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیا تھا؟ جب آپ نے بچّہ اپنی خوشی اور سماجی دباؤ کے تحت پیدا کیا، تو پھر اس کی پرورش آپ کا فرض تھی، یہ کوئی احسان یا تجارت نہیں۔ اس رویے کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں والدین جوانی میں اپنی صحت پر بالکل دھیان نہیں دیتے۔ وہ نہ تو اپنی خوراک کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی ورزش کو زندگی کا حصہ بناتے ہیں، بلکہ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ آگے چل کر اولاد سنبھال ہی لے گی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچّہ اپنی عملی زندگی شروع کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، تو اس پر اچانک والدین کی بیماریوں کی وجہ سے اسپتالوں کے بھاری اخراجات کا معاشی بوجھ آن گرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے ایک ایسے معاشی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے جو اس کے مستقبل کو نگل جاتا ہے۔
معروف انڈین اسٹینڈ اپ کامیڈین ذاکر خان نے اس نفسیات کو ایک خوبصورت لائن میں سمیٹا تھا کہ "ماں باپ اپنی اولاد کو پَر تو دینا چاہتے ہیں، لیکن ان کی اڑان سے ڈرتے ہیں۔” ہمارے معاشرے میں بھی یہی ہوتا ہے؛ ہم بچوں کو پڑھاتے لکھاتے تو ہیں تاکہ وہ بڑے انسان بنیں، لیکن جب وہ اڑان بھرنے لگتے ہیں، ہمیں یہ خوف ستانے لگتا ہے کہ کہیں یہ ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ اسی لیے ہمارے ہاں فرماں برداری کا معیار اخلاقیات نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بچّہ اپنے کیریئر، شادی اور کمائی کا ہر فیصلہ خاموشی سے والدین کی جھولی میں ڈال دے۔ اگر بچّہ اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ خود کرنا چاہے، تو فوراً عاق کرنے اور دودھ نہ بخشنے کی دھمکیاں اور نافرمانی کے فتوے تیار ملتے ہیں۔ یہ کیسی محبت ہے جو صرف شرطوں پر زندہ ہے؟ اگر ہم واقعی ایک صحت مند معاشرہ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو بڑھاپے کا سہارا بنانے کے تصور کے تحت پروان چڑھانے کے بجائے، اپنی جوانی میں اپنی صحت کا خیال رکھیں اور اپنا بڑھاپا محفوظ بنائیں۔ بچّوں کو آزادی دیں، انہیں محبت کرنا سکھائیں اور ان میں اخلاقی قدروں کو اجاگر کریں۔ بچوں کو کاروبار نہ سمجھیں یا انشورنس پالیسی کی طرح ڈیل نہ کریں۔ جب آپ ان سے بغیر لالچ کے محبت کریں گے، تو وہ بڑھاپے میں کسی سماجی مجبوری کے تحت نہیں، بلکہ سچی محبت اور احترام کے ساتھ آپ کا سہارا بنیں گے۔ یاد رکھیے، اولاد اللہ کی نعمت ہے، آپ کے ریٹائرمنٹ کا فنڈ نہیں۔


