ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

بچوں کو موبائل فون دینے والے والدین ہوجائیں خبردار، ماہر اطفال کے اہم انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (06 فروری 2026): موجودہ دور میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو مصروف رکھنے اور اپنے آرام میں خلل سے بچنے کیلیے چھوٹے بچوں کو موبائل فون تھما دیتے ہیں یہ عمل اپنی اولاد سے دشمنی کے مترادف ہے۔

چھوٹے بچوں خصوصاً 5 سال سے کم عم بچوں کو کھیلنے کیلیے موبائل فون دینا کا استعمال ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی نشوونما کے لیے انتہائی مضر ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ماہر امراض اطفال ڈاکٹر وسیم احمد جمالوی نے ناظرین خصوصاً ماؤں کو چند اہم باتیں بتائیں اورمفید مشورے دیے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے بچوں کے لیے موبائل فون کا استعمال ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی نشوونما کے لیے انتہائی مضر ہے، جس سے نظر کی کمزوری، نیند کی کمی، چڑچڑاپن اور سیکھنے کی صلاحیت میں تاخیر جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچہ ہمیشہ اپنے والدین اور ارد گرد کے لوگوں سے سیکھتا ہے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مائیں بچوں کو موبائل فون دے کر اپنی جان چھڑا لیتئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دنیا میں پہلی بار آسٹریلیا حکومت نے اس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جبکہ عالمی ادارہ صحت نے ہدایات دی ہیں کہ دو سال کی عمر سے قبل کسی بچے کو موبائل فون ہرگز نہ دیے جائیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دو سال کی عمر تک انسان کی نشونما میں جسم اور دماغ کے اندر نیوران کی پیداوار بہت تیزی سے ہوتی ہے جو مزید 5 سال تک بھی جاری رہتی ہے۔

اس پریشانی کا حل کیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہوسکے تو والدین کو چاہیے کہ خود بھی موبائل کا استعمال کم کریں خاص طور پر جب تک ان کے بچے سمجھداری کی عمر کو نہیں پہنچتے۔ بچوں کو خاص طو ر پر دو سال سے پہلے موبائل فون کسی صورت نہ دیں اور دو سال بعد یہ یاد رکھیں کہ کھانا کھاتے ہوئے اور سونے سے پہلے بالکل نہ دیں کیونکہ اس کی بلیو لائٹس آنکھوں اور دماغ کیلیے بہت نقصان دہ ہیں۔

موبائل فون کی اسکرین میں موجود ’’ڈیجیٹل کوکین‘‘ کس طرح نقصان پہنچاتا ہے؟

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں