site
stats
پاکستان

انصاف لینے کی سکت نہیں، معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا، ن لیگی قافلے میں‌ ہلاک حامد کا والد مایوس

گجرات :سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے میں شریک گاڑی سے کچل کر جاں بحق بچے کے والد کو زبردستی  پیسے دے کر خاموش کر ادیا گیا، بچے کے والد نے کہا ہے کہ انصاف لینے کی سکت نہیں، معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے کی گاڑی تلے دب کر ہلاک ہونے والے بچے حامد کے لواحقین کو خاموش کرادیا گیا، پہلے بچے کے اہل خانہ کی منشا کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی گئی پھر ان پر پیسے لے کر خاموش ہونے کو کہا گیا۔وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال اور ڈی سی او گجرات نے بھی والدین کو دھمکیاں دیں، والدین نے انصاف مانگا تو حکومتِ پنجاب کی پوری مشینری دیت کے نام پر پیسے دینے کے لیے استعمال کی گئی، جب والدین پر دباؤ حد سے بڑھ گیا اور جان کا سوال پیدا ہوا تو والدین کو مجبوراً خاموش ہونا پڑا اور حامد کے اہل خانہ کو جبراً رقم دے کر خاموش کرا دیا گیا۔

رکن صوبائی اسمبلی منشااللہ بٹ نے 30 لا کھ روپے حامد کے والدین کو ادا کیے، جب بچے کے والدین کا منہ بند کر ادیا گیا تو نوازشریف کو لالہ موسیٰ آنے کا گرین سگنل دیا گیا۔

مجھ میں لڑنے کی سکت نہیں؟ مجبور والد

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے حامد کے بوڑھے والد نے کہا کہ مجھ میں انصاف لینے کی سکت نہیں، مجھ سے ایک ہزار گنا بلکہ ایک لاکھ گنا عمران خان اور طاہر القادری اور دیگر جو کررہے ہیں ان کی طرح لڑنے کی مجھ میں سکت نہیں، ابھی تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف نہیں ملا، میں نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔

دیکھیں ویڈیو:

دیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں کسی اور حامد کا قتل نہیں چاہتا، میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں میرے چھوٹے دو بھائی لگے ہوئے ہیں۔


مزید پڑھیں : نوازشریف کے قافلے میں شامل گاڑی نے بچے کو کچل ڈالا


یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے لاہور سفر کا قافلہ گجرات پہنچا تو وہاں لوگ نواز شریف کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے، جب نواز شریف کے قافلے میں شامل گاڑی کی زد میں آکر رحمت نامی بچہ جو لالہ موسیٰ کا رہائشی تھا‘ کچلا گیا تھا اور جاں بحق ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ حامد کو کچلنے والی بی ایم ڈبلیو کا نمبرایس ایس 875تھا، حامد کو کچلنے والی قیمتی گاڑی وزیراعظم سیکریٹریٹ کی تھی، نوازشریف راولپنڈی سے اسی گاڑی میں نکلے تھے جبکہ حادثے کے وقت دوسری گاڑی میں تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top