پیرس فیشن ویک، ساٹھ کی دہائی کا فیشن 21 ویں صدی میں Paris
The news is by your side.

Advertisement

پیرس فیشن ویک، 21 ویں صدی میں ساٹھ کی دہائی کا فیشن

پیرس : خوشبوؤں کے شہر پیرس میں کل سے فیشن کی دنیا کی رنگینیاں چھائی ہوئی ہیں جہاں روزانہ نت نئے فیشن شو دیکھنے کو ملتے رہیں گے، دیدہ زیب ملبوسات اور دلربا اداؤں کا یہ حسین امتزاج 6 مارچ تک جاری رہے گا.

یوں تو ہر سال پیرس میں رنگ اور ڈیزائن کی انفرادیت سے سجے فیشن ویک کا اپنا ہی نرالہ انداز ہوتا ہے جسے پوری دنیا میں اپنایا جاتا ہے اور ہر سال نئے ڈیزائن اور انوکھے انداز کے لیے طویل سوچ و بچار کی جاتی ہے تاہم اس سال فیشن ویک کی اہم ترین بات ماڈلز کا ساٹھ کی دہائی کے مقبول ملبوسات زیب تن کرنا تھا یوں ساٹھ کی دہائی می کیسا فیشن تھا اس فیش شو کے ذریعے دنیا کے سامنے آگیا.

فیش کے پہلے روز معروف فیشن ڈیزائنر ڈیور نے ماضی گم گشتہ مگر قابل فخر لمحات کی یاد دلا دی، فیش شو کے ملبوسات میں کسی پر لفظوں کا جال تو کسی ماڈل نے کلر فلر پوسٹر جیسے لباس پہن کر واک کی تو کوئی ماڈل ایئرپورٹ لائونج کی طرح بیگ اٹھائے منفرد طریقے سے  کیٹ واک کرکے دادوصول کرتی نظر آئیں اور کہیں کہیں رنگوں کا بے تحاشا استعمال بھی ہوا تو کہیں نئے اور پرانے انداز کا ملغوبہ بھی پیش کیا گیا.

اس سال فیش ویک کی اہمیت دہری خاصیت کے باعث دگنی ہو جاتی ہے، اول ماڈلز کا 60 کی دہائی میں مقبول ملبوسات کا زیب تن کرنا ہے جس سے شائقین اور ناظرین خود کو پچاس قبل کی دہائی میں محسوس کرنے لگے تو جلوؤں ،نزاکتوں اور دلربا انداز کے درمیان کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے فیش شو ہال کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس میں فیشن انڈسٹری میں جانوروں کے کھال کے استعمال کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا اور فیشن شو کی انتظامیہ کو یادداشت بھی پیش کی گئی.

جہاں خوشبوؤں کے شہر پیرس میں فیشن ویک کی رنگینیاں عروج پرہیں اور سامعین ساٹھ کی دہائی کے مشہور ملبوسات کو دوبارہ واکنگ ریگ پر جگمگاتے دیکھ رہے ہیں وہیں ہال کے باہر فیشن انڈسٹری میں جانوروں کی کھالو ں کو کپڑوں میں استعمال کرنے کے خلاف فیشن شو کے باہراحتجاجی نعروں نے بھی شو دیکھنے کے لیے آنے والوں، میڈیا  اور انتظامیہ کو اپنی جانب متوجہ کیا جس سے اس اہم ایشو کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں