The news is by your side.

Advertisement

بالی ووڈ اداکار نے مودی کے مذہب پر سوالات اٹھا دیے

ممبئی: بالی ووڈ اداکار پرکاش راج نے  مودی کے مذہب پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص ایک مذہب کو دنیا سے ختم کرنا چاہتا ہے وہ ہندومت کا ماننے والا نہیں ہوسکتا۔

تفصیلات کے مطابق پرکاش راج کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو ملک کے حساس معاملات اور سنجیدہ موضوعات پر کھل کے گفتگو کرکے حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

بھارتی اخبار سے بات کرتے ہوئے پرکاش کا کہنا تھا کہ جو قاتلوں کی حمایت کرے وہ کبھی ہندو نہیں ہوسکتا، میں ہندوؤں کے نہیں بلکہ مودی کے خلاف ہوں کیونکہ بھارت میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: سچ لکھنے کی پاداش میں خاتون صحافی قتل

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے حکمران ہندو ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اُن کی حرکتیں ہندو مت کو ماننے والی نہیں، جو شخص کسی بھی مذہب کو دنیا سے ختم کرنا چاہیے وہ کبھی ہندو نہیں ہوسکتا۔

پرکاش راج کا کہنا تھا کہ میں نے صحافی گوری لنکیش کی موت پر لوگوں کو جشن مناتے ہوئے دیکھا اور یہ وہی لوگ تھے جنہیں مودی سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں، وزیر اعظم ایسے معاملات پر خاموش رہتے ہیں اور جب سوال کرو تو ہمیں ہی مذہب سے خارج قرار دے دیا جاتا ہے۔

بالی ووڈ ادکار کا کہنا تھا کہ کسی کی موت پر اگر مودی اپنے لوگوں کو  جشن منانے سے نہیں روک سکتے تو انہیں وزیراعظم کے عہدے سے سبک دوش ہوجانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: قاتل گرفتارنہ ہوئے توایوارڈ واپس کردوں گا، پرکاش راج 

پدماوتی تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے پرکاش راج کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی مگر ہمارے درمیان موجود معاشرے کے دشمن عدالتی فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور اگرکوئی ان لوگوں کی مخالفت کردے تو اُس کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں