The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے

حکومت کا آصف زرداری کے پراڈکشن آرڈر جاری کرنے کا فیصلہ، سابق صدر بھی اجلاس میں شریک

اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں حیثیت تبدیل کرنے ، اور وادی کی مخدوش صورتحال پرپاکستان کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوگیا ، اجلاس اپوزیشن اور حکومت کے ڈیڈ لاک کے سبب ملتوی کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے زیر صدارت ہورہا ہے ، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو موجود ہیں، ساتھ ہی اس اجلاس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ حید ر بھی اپنی کابینہ کے ساتھ شریک ہیں جبکہ  وزیر اعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ پہنچ چکے ہیں۔

اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر اسیر ممبران پارلیمنٹ کے پراڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا۔

تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے تحریک پیش کی جس میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا ذکر نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے احتجاج کیا اور اس میں ترمیم کرنے کا کہا، شیخ رشید نے بھی ربانی کے موقف کی تائید کی۔

آرٹیکل 370 کیا تھا؟ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو کیا نقصان ہوگا؟

اپوزیشن کی جانب سے نکتہ اعتراض کے بعد حکومت کی جانب سے تحریک میں ترمیم کردی گئی تاہم اپوزیشن کی جانب سے احتجاج جاری رہا جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے 20 منٹ کے لیے اجلاس ملتوی کردیا۔

اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو وزیراعظم عمران خان کی شرکت سے مشروط کردیا ہے جس کے سبب اجلاس تاحال تعطل کا شکار ہے، وزیر اعظم اپنے چیمبر میں کشمیر پر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اہم ملاقاتیں کررہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے سابق صدر آصف زرداری کے پراڈکشن آرڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سابق صدر کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچایا گیا۔

خیال رہے بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگرقومی رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل پیش کیا گیا تھا، تجویز کے تحت کشمیریوں کو حاصل خصوصی حقوق ختم کردیے گئے ہیں اور غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں اور جائیدادحاصل کرسکیں گے۔

بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کا عہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں