The news is by your side.

Advertisement

ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کردی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے لیے جہاں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان وزیر اعظم عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وہاں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 12 بجے شروع ہوا جس کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان وقت سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے تھے۔

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کے لیے جو 6 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا تھا اس کے تحت تلاوت اور نعت کے بعد وقفہ سوالات ہونا تھا، ایجنڈے میں تیسرے نمبر پر توجہ دلاؤ نوٹس تھا جبکہ عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ووٹنگ چوتھے نمبر پر تھی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کی۔

اجلاس شروع ہونے کے بعد تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ ہوئی، جس کے بعد وقفہ سوالات شروع ہونے پر ڈپٹی اسپیکر نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کو بات کرنے کی اجازت دی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، آرٹیکل 5 کے مطابق ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے۔ 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں عدم اعتماد پیش کی جارہی ہے۔ 7 مارچ کو ہمارے سفیر کو ایک آفیشل میٹنگ میں بلایا جاتا ہے، اس ملاقات میں دوسرے ملک کے آفیشلز بھی بیٹھتے ہیں، میٹنگ میں سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پیش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سب کے ساتھ ہی ہمارے اتحادیوں اور اپنے 22 ارکان کا بھی ضمیر جاگ جاتا ہے، بتایا جائے کہ کیا بیرونی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل کی جاسکتی ہے؟ کیا یہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی نہیں؟

انہوں نے کہا کہ ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشا نہیں چل سکتا۔

فواد چوہدری کی تقریر ختم ہونے پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا ہے کہ یہ قرارداد آئین کے منافی ہے، اس لیے وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسپیکر کی رولنگ کے مطابق اسے مسترد کرتے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ تحریک اعتماد عالمی سازش کے تحت لائی جا رہی ہے اسے مسترد کرتے ہیں، وفاقی وزیر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات بالکل درست ہیں۔

رولنگ دینے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی جس کے بعد اسد قیصر قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکے۔

تحریک عدم اعتماد جمع ہونے پر اسپیکر اسد قیصر کی جگہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اجلاس کی صدارت کی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

سخت سیکیورٹی انتظامات

قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پر ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، کسی بھی جماعت کے کارکنوں کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسلام آباد میں آج اور کل کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند رہے گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں فول پروف سیکیورٹی کے حوالے سے ووٹنگ والے دن کسی کو بھی ریڈ زون میں احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ کسی کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق ریڈ زون میں داخلے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کا راستہ استعمال کیا جا سکے گا جبکہ ریڈ زون جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز نصب کیے جائیں گے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کو راولپنڈی سے سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کو بھی اسلام آباد نہیں جانے دیا جائے گا اور اس دن 2 مختلف شفٹس میں مجموعی طور پر 8 ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔

سیکیورٹی کے لیے 3 ہزار اہلکار پنجاب پولیس اور 1 ہزار ایف سی اہلکار پہلے سے اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ سیکیورٹی انتظامات میں رینجرز کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں