site
stats
پاکستان

حلقہ بندیوں پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بے نتیجہ ختم

اسلام آباد: حلقہ بندیوں کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ اجلاس کے دوران شیخ رشید اور محمود خان اچکزئی میں تلخ کلامی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق قانون سازی پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کسی جماعت کی خواہش نہیں کہ انتخابات میں تاخیر ہو، تمام جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے قانون سازی ہونی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات نہیں کروائے جاسکتے، ’ہماری خواہش ہے کہ پارلیمنٹ کا کام صرف پارلیمنٹ کو کرنا چاہیئے۔ پارلیمنٹ مشترکہ مفادات کونسل سے کم تر ادارہ نہیں ہے‘۔

تاہم اجلاس کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی میں تلخ کلامی ہوگئی۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے ہمیں ڈرانے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے، حکومت کے 63 اراکین کم ہیں۔ حکومت سے ارکان پورے نہیں ہو رہے دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بل پاس نہیں کروا سکتی تو اسے استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔

بعد ازاں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔


اسپیکر قومی اسمبلی کی نواز شریف سے ملاقات

اجلاس کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی ملاقات ہوئی جس میں ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات سے متعلق آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں ڈیڈ لاک ہے۔ پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے نواز شریف کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا پڑے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top