فوجی عدالتوں میں توسیع، پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس 22 فروری تک ملتوی
The news is by your side.

Advertisement

فوجی عدالتوں میں توسیع، پارلیمانی رہنماؤں کو مسودہ پیش

اسلام آباد: فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس کسی حتمی فیصلے پر پہنچے بغیر 22 فروری تک ملتوی ہوگیا تا ہم قانونی مسودہ پارلیمانی رہنماؤں کو مشاورت کے لیے پیش کردیا گیا جس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں 3 سال کی توسیع مانگی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں مسودہ پیش کیا گیا۔

مسودے میں فوجی عدالتوں کی مدت میں 3 سال کی توسیع کی تجویز دیتے کہا گیا ہے کہ حکومت کی تعریف کے مطابق اب کسی کوبھی دہشت گردی میں شامل کیا جاسکے گا اور دہشت گردی کو کسی مذہب یا مذہبی جماعت سے نہیں جوڑا جائے گا بلکہ دہشت گرد کو دہشت گرد قرار دے کر کارروائی کی جائے گی۔

آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا اور مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے بریفنگ دی جس کے بعد آئینی مسودہ پارلیمانی رہنماؤں کے حوالے کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتراض لگا کر مسودہ مسترد کر دیا جس کے بعد مسودہ قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیر قانون زاہد حامد کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی بنادی ہے جو 22 فروری تک اپنی سفارشات جمع کرائے گی۔

ذیلی کمیٹی وفاقی وزیر زاہد حامد کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے جس میں دیگر پارٹی کے رہنما بھی شامل ہیں جن میں شازیہ مری، شیری مزاری، نعیمہ کشور اور اقبال ایس قادری شامل ہیں، کمیٹی کے ارکان اپنی جماعتوں سے مشاورت کریں گے،کمیٹی مسودے میں ممکنہ قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ قانونی مسودے کی کاپی تمام پارلیمانی رہنماؤں کو بھی دے دی گئی ہے جو اپنے اپنے پارٹی رہنماوں سے مشاورت کے بعد 27 فروری کو اجلاس میں مسودے پر اتفاق یا اعتراض سے آگاہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر اگلا اجلاس 22 فروری کو ہوگا جس میں ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں 21 ویں ترمیم میں ترامیم تجویز کی جائیں گی جب کہ پارلیمانی رہنماؤں کا اگلا اجلاس اب 27 فروری کو ہوگا۔

وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ اتفاق رائے کے بعد نئی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کرائی جائے گی دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اس مسودے کو مکمل طور پر نامنظور اور مسترد کر دیا ہے۔

رہنما پیپلز پارٹی نوید قمر نے کہا کہ مسودے میں پرانے قانون سے زیادہ سختی برتی گئی ہے، کسی کو بھی دہشت گردی کی الزام میں اندر کیا جا سکتا ہے جو منظور نہیں۔

اجلاس میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد، پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجاز الحق، پی ٹی آئی کی شیریں مزاری، شاہ محمود قریشی، عوام مسلم لیگ کے شیخ رشید، جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنما طارق اللہ، اے این پی کے غلام احمد بلور، وزیر خزانہ اسحاق ڈار،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عطا الرحمان اور دیگر نے شرکت کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں