The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف سیاسی قیادت متحد

اسلام آباد : وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر پارلیمانی جماعتوں کا سربراہی اجلاس آج وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہوا جس میں سیاسی قیادت بھارتی مظالم کے خلاف متحدہ ہوگئی اور شرکا نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں بھارتی کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے سیاسی قائدین کا مسئلہ کشمیر اور لائن آکنٹرول پر بھارتی جارحیت کے حوالے متفقہ قومی لائحہ عمل اپنانے کے لیے ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ جا ری کردیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق تمام سیاسی قائدین نے متفقہ طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور غیرانسانی برتاؤ کی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور اسے عالمی سطح پر اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عالمی طاقتوں سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں بھارتی خفیہ ایجینسی را کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی بالخصوص بلوچستان میں را کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد اور اعانت پر کڑی نکتہ چینی کی گئی۔

شرکا نے کہا کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا،سیاسی قیادت ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اجلاس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کو فعال کرنے اور ملکی سلامتی کے حوالے سے متفقہ اور واضح لائے عمل بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔

قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی قائدین کے رہنماؤں کے اجلاس میں سیکریٹری خارجہ نے پارلیمانی رہنماؤں کو ایل او سی پر بھارتی جارحیت اور کشمیر کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اس موقع وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اجلاس میں آنے والوں شرکا کا استقبال خود باہر آکر کیا اور تمام شرکاء کی آمد کا شکریہ بہ نفس نفیس خود ادا کیا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی موجود ہیں۔

nawaz-post-3

بعد ازاں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ آج کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج تمام سیاسی قائدین نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ثابت کر دیا کہ ہمسایہ ملک کی جارحیت کےخلاف پوری قوم متحد ہے۔

nawaz-post-1

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اجلاس بلانے کا مقصد اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، تجاویز کی روشنی میں مربوط اور متفقہ حکمت عملی وضع کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کی سلامتی اورتحفظ پرسمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا، دفاع وطن کے لیے مل کر آگے بڑھیں گے۔

nawaz-post-2

اجلاس میں شرکت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم پارٹی رہنما، تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی، ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹرفاروق ستار، اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور، وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ، محمود اچکزئی اور پروفیسر ساجد میر سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین موجود ہیں۔

nawaz-post-5

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ میری جماعت کے آپ کے ساتھ کئی اختلافات ہیں لیکن قومی سلامتی کے لیے سارے اختلافات بھلا کر اتفاق رائے قائم کرنے اور موثر پالیسی آویزاں کرنے کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

nawaz-post-6

بعد ازاں اجلاس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے بھی خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کو بھارتی جارحیت اور کشمیر میں مظالم کو عالمی سطح پر اُٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قومی سلامتی پر اپنے ہر تعاون اور مدد کا یقین دلایا۔

nawaz-post-4

اجلاس سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور وزیر اعظم کو ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت پر زوردیا۔

وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کا اہم اجلاس کی کارروائی کا مشترکہ اعلامیہ لکھا جا رہا ہے جس کے بعد میڈیا بریفنگ میں اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد،پالیسی وضح کرنے اور اعلامیہ تحریر کرنے کے حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس وقت اعلامیہ تحریر کر رہی ہے۔

پارلیمانی کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر الزمان اور شیری رحمٰن،تحریک انصاف کی طرف سے شیریں مزاری،ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور حکومت کی جانب سے اسحق ڈار اور احسن اقبال نمائندے ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں