The news is by your side.

Advertisement

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگائے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔

مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم، مسلح افواج کے سربراہان، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور سفارت کار شریک ہوئے۔

اجلاس کے موقع پر غیر ملکی سفیروں اور مسلح افواج کے سربراہان کی شرکت کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ممنون حسین نے بھی خطاب کیا۔ یہ ان کا موجودہ پارلیمنٹ سے چوتھا خطاب ہے۔

صدر ممنون حسین کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت شور شرابہ کیا۔ اس دوران ایوان میں ’گو نواز گو‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

خطاب کے دوران اپوزیشن اراکین نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے بھی احتجاج کیا اور بعد ازاں اجلاس سے واک آوٹ کر گئے۔

صدر مملکت کا خطاب

اپنے خطاب میں صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ بعض عناصر کی وجہ سے فرد اور ریاست کے درمیان رشتہ کمزور ہوا۔ بلوچستان اور فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے اقدامات ترقیاتی عمل کا حصہ ہے۔

صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ دوسروں پر ذمہ داری ڈالنا قوموں کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ ترقیاتی عمل پر مختلف طبقات کا اختلاف ہونا غیر فطری نہیں لیکن اختلاف رائے کو انتشار میں بدلنے کا راستہ حکمت سے بند کیا جائے۔

اپنے خطاب میں قومی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ شرح نمو گزشتہ 10 سال میں سب سے بلند سطح پر رہی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح کو چھو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید اسپتال بنائے جائیں۔

صدر ممنون کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہماری دفاعی مصنوعات معیاری اور کم قیمت ہیں۔ خواتین کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر سے آمد و رفت کے ذرائع میں بہتری آئی ہے۔ توانائی بحران پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔ تجویز دی تھی کہ گلگت بلتستان کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائے۔

پاک چین دوستی

اپنے خطاب میں صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور چین اقتصادی تعاون میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کی ایک مثال ہے۔

مسئلہ کشمیر

مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے صدر ممنون کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہمیشہ جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت سے تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے تاہم بھارت کی جانب سے ہماری کسی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ بھارت نے ہمیشہ لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا مظاہرہ کیا۔

افغان دھماکے پر اظہار افسوس

صدر ممنون نے گزشتہ روز افغانستان میں ہونے والے دھماکے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال کی خانہ جنگی سے افغانستان کو کافی نقصان ہوا ہے۔ افغان حکومت اور لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن تک خطے میں استحکام پیدا نہیں ہوسکتا۔

دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات

دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ممنون کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اخلاص کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے خصوصاً ترکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی محبت کے گہرے رشتے سے منسلک ہیں۔ خوشی ہے کہ پاک ترک دوستی گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ

صدر ممنون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں شہریوں اور جانباز سپاہیوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔ انتہا پسندی کے اثرات کے خاتمے کے لیے قومی بیانیہ قوت سے پیش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایٹمی اسلحے کے عدم پھیلاؤ پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

ان کے مطابق مردم شماری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ مردم شماری میں جان دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

خطاب کے آخر میں صدر مملکت نے کہا کہ مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے۔ تاریخ میں پارلیمنٹ کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ خطاب ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے ارکان پارلیمنٹ نے ملاقات کی اور ان سے مصافحہ کیا۔

یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 56 کے تحت نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب روایتی آئینی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس بھی صدر مملکت نے 4 جون کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

یہ صدر ممنون کا موجودہ حکومت کی پارلیمنٹ سے چوتھا اور آخری خطاب تھا۔ تاہم صدر اس کے بعد اپنا ایک اور آخری خطاب کریں گے جو انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے بعد آئندہ آنے والی پارلیمنٹ سے ہوگا۔


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں