site
stats
اہم ترین

پاناما لیکس : پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پھر بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

اسلام آباد : پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کے ٹی آر اوز کا تعین تاحال نہ کیا جا سکا، اس حوالے سے حکومت اوراپوزیشن کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ رہا۔

تفصیلات کے مطابق پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ٹرمز آف ریفرنس تیار کرنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں آج پھر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ اور اجلاس کے اراکین کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی چلے گئے۔

اب کمیٹی کا اگلا اجلاس جمعہ کے دن ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ لگتا ہے حکومت کو ہماری ترامیم قبول نہیں ۔

حکومت نے مشاورت کے لیے جمعہ تک وقت مانگا ہے۔ ہم نے حکومت کے 4 میں سے 3 ٹی او آرز تسلیم کرلیے ہیں اور ایک حکومتی ٹی او آر میں چھوٹی سی ترمیم کی ہے، ہم اس معاملے پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے مر کزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلا س میں فنانس بل میں آرٹیکل بیس متعارف کرانا حکومت کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔آرٹیکل بیس آف شور کمپنیاں قائم کرنے اورسرمایہ کاری کرنے کوجائز قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی رکن اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن نے جو مسودہ پیش کیا وہ ایک شخص کے گرد گھومتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تجاویز کے جواب میں جو ڈرافٹ دیا گیا اس پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے پہلے والے 15 سوال سے بھی آگے ہے جو پوری طرح افراد کے درمیان گھوم رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ارادہ بے لاگ احتساب کا ہے اگر بے لاگ احتساب کرنا ہے تو قانون اور ٹی او آرز ایسے بنائیں جو سب کا احاطہ کریں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی مدت پندرہ دن نہیں تھی۔ پندرہ اجلاسوں کے بعد ٹائم ختم ہوگا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top