فوج اور عدلیہ کی طرح پارلیمنٹ کی بھی حرمت ہے، احسن اقبال parliment
The news is by your side.

Advertisement

فوج اور عدلیہ کی طرح پارلیمنٹ کی بھی حرمت ہے، احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اتنی ہی حرمت ہے جتنی فوج اور عدلیہ کی ہے، سوشل میڈیا پر اداروں کو نشانہ بنانے والے افراد کے خلاف ضابطہ اخلاق تیار کررہے ہیں، ختم نبوت ﷺ کا حلف نامہ اصل حالت میں بحال ہوگیا اس معاملے کو متنازع بنا کر لانگ مارچ نہ کیا جائے، کسی کو ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ختم نبوت کے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کردیا گیا لہذا اس معاملے کو متنازع بنا کر لانگ مارچ نہ کیا جائے، جن جماعتوں نے ریڈ زون میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہیں اُن سے گزارش کرتے ہیں کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی جماعت کا کوئی کارکن ریڈ زون میں داخل ہوا تو اُس کے خلاف بوجھل دل کے ساتھ کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے، حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے حل نامے کو تبدیل کیا اور اپنی غلطی بھی تسلیم کی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو ہمارے ہر کام میں برائی نظر آتی ہے اور وہ ہر چھوٹے مسئلے کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف مظاہروں کا اعلان کرتے ہیں، معذور سیاستدانوں کی بریگیڈ کے کپتان عمران خان صاحب ہیں جنہیں ہماری کامیابی ناکامی نظر آتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ چند سالوں قبل پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی مگر آج دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کار پرائیوٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور پاکستان دنیا کے 5 بہترین ممالک میں شامل ہوگیا اس لیے کہ پوری دنیا پاکستان کی معیشت کے بارے میں مطمئن ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاناما ٹرائل اور نوازشریف کی نااہلی کے بعد ملک میں سیاسی بے یقینی پیدا ہوئی جس کی ہم بھاری قیمت ادا کررہے ہیں، اب تک اسٹاک مارکیٹ میں 14 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ موجودہ دور میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے بہت اہم کردار ادا کررہی ہیں، سوشل میڈیا کی وجہ سے امریکی انتخابات کے نتائج بھی یکسر تبدیل ہوئے، اداروں کے تقدس کو بحال رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا فریم ورک بنا رہے ہیں جس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے اس لیے میڈیا کے لیے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے، آئندہ کسی بھی میڈیا کو تھریٹ الرٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر کوئی خط سامنے آیا تو اُس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ ماہ آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کی تھی جس کے بعد حلف نامہ تبدیل ہوگیا تھا، مذہبی جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام کو ختم نبوت ﷺ کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں