site
stats
اے آر وائی خصوصی

خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا 22 واں یوم وفات آج منایا جارہا ہے

کراچی : پھولوں اور خوشبوؤں کی شاعرہ، لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی پروین شاکر کا 22 واں یوم وفات آ ج منایا جارہا ہے۔ اردو شاعری میں اُن کا کلام ایک خاص انفرادیت کا حامل ہے۔

پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام شاکر حسین تھا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔


Parveen Shakir – Bakht se koi shikayat hai na… by DreamDosti

سال انیس سو ستتر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا، اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعراء کرام میں ہونے لگا، اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی پروین کی شاعری ادبی رسالوں کے ذریعے اپنے مداح پیدا کر چکی تھیں۔ خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔

پروین سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنے خوبصورت اور بے باک انداز سے قلمبند نہیں کیا تھا۔
خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی، اور انکار شائع ہوئے، ان کے کلام کی کلیات ماہ تمام بھی شائع ہو چکی ہے، جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعد نسائی شاعری ایک نئی شناخت کے ساتھ اُردو کے ادبی منظر نامے پر جلوہ افروز ہوئی۔ پروین شاکر ہمیں اس منظر نامے پر ماہِ تمام کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں۔ پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے


انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعریکو نسائی احساسات سے مالا مال کیا، ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا، آج بھی اردو کی مقبول ترین شاعرہ سمجھی جاتی ہیں۔

حسن کو سمجھنے کو عمر چاہئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کیے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والاآدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کا صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سر فہرست تھے

چھبیس دسمبر 1994کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں بلکہ عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک کے اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں

مر بھی جاوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہٗ خاک ہیں اور ان کی لوح مزار پر ان ہی کے یہ اشعار کندہ ہیں۔

ﯾﺎﺭﺏ ﻣﺮﮮ ﺳﮑﻮﺕ ﮐﻮ ﻧﻐﻤﮧ ﺳﺮﺍﺋﯽ ﺩﮮ
ﺯﺧﻢ ﮨﻨﺮ ﮐﻮ ﺣﻮﺻﻠﮧٔ ﻟﺐ ﮐﺸﺎﺋﯽ ﺩﮮ
ﺷﮩﺮ ﺳﺨﻦ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺁﺷﻨﺎﺋﯽ ﺩﮮ
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﺭﺳﺘﺎ ﺳﺠﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top