site
stats
پاکستان

محمود خان اچکزئی کیخلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے، پرویز الٰٰہی

لاہور : سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے محمود خان اچکزئی کے متنازعہ بیان کو ملکی سلامتی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔

لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ محمود اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان سمیت خاندان کے متعدد افراد پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں میں موجود ہیں۔

انہیں پاکستان کے خلاف بولتے ہوئے خیال کرنا چاہیئے۔ قائد اعظم ریذیڈنسی پر حملے کے بعد ان کی پارٹی کے جنرل سیکرٹری نے مذمت سے انکار کردیا تھا۔

پٹھان کوٹ واقعہ پر آرمی پر الزام  لگانے کی سازش کی، جسے خود انڈیا تسلیم کرچکا ہے کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1979ءمیں روس نے افغانستان پر قبضہ کیا، جسے چھڑانے کے لئے پاکستانی فوج اور عوام نے کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی، جواب میں ہمیں کلاشنکوف کلچر ملا جسے ہم اب تک دہشت گردی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری، پٹھان کوٹ کے واقعہ اور اب محمود اچکزئی کے بیان پر خاموشی قابل مذمت ہے۔

چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسلمہ بارڈر ہے، جسے اقوام متحدہ قبول کرچکی ہے اور سپریم کورٹ کی رولنگ بھی اس پر موجود ہے۔ اس لئے پارلیمنٹ سے حلف کی خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف لابنگ کرنے کے الزام میں محمود اچکزئی کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top