ڈی آئی خان میں عام آدمی کی پولیس تک رسائی کا نیا نظام متعارف -
The news is by your side.

Advertisement

ڈی آئی خان میں عام آدمی کی پولیس تک رسائی کا نیا نظام متعارف

ڈی آئی خان: ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ سید فدا حسن شاہ نے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں پولیس ایکسیس سروس’’پاس‘‘کے نئے نظام یعنی عام آدمی کی پولیس تک آسان رسائی کا افتتاح کر دیا

تفصیلات کے مطابق اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں آر پی او سید فدا حسن شاہ نے معززین علاقہ ،منتخب نمائندوں ،سیاسی و مذہبی شخصیات اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی میں افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی،انہوں نے اس تقریب میں موجود شرکاء کو پاس کے نئے نظام کے حوالے سے دفتر میں موجود سہولیات کے بارے تفصیلات سے آگاہ کیاگیا۔ اس موقع پر ضلع ناظم عزیز اللہ خان علیزئی ،ڈی پی او راجہ عبد الصبور خان سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آر پی او سید فدا حسن شاہ نے کہا کہ خیبر پختونخواہ پولیس عوام دوست پولیس ہے بد قسمتی سے کچھ عرصہ سے دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے مجبوراًبیرئیرز سمیت دیگر رکائوٹیں پولیس عمارات کے ارد گرد بنائی گئی جس کی وجہ سے بعض شہریوں کا پولیس سے رابطہ آسان نہیں رہا۔

پولیس کے موجودہ صوبائی سربراہ کی کوششوں سے عام عوام کی پولیس تک آسانی رسائی کے لئے پولیس ایکسیس سروس کا جدید نظام متعارف کرادیا گیا ہے جو اب صرف ایس ایم ایس ،کال،ای میل یاپاس کے دفتر پہنچ کر اپنی شکایات یا مسئلہ ہم تک پہنچاسکتے ہیں جس پر چوبیس گھنٹے کے اندر پولیس عام شہری تک پہنچ کر اسکی شکایات یا مسئلہ کا ازالہ کرے گی۔

یہ نظام پولیس کے قابل جوانوں نے خود تیار کیا ہے اس نظام سے خیبر پختونخواہ پولیس میں شفافیت اور عوامی جوابدہی کو فروغ ملے گا عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے تحریری درخواستوں اور دفاتر کے چکر نہیں لگائیں گے۔ نئے نظام کے تحت ڈی آئی جی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ تمام وصول شدہ شکایات کی خود نگرانی کرسکیں گے اور تمام عوامی شکایات اور مسائل کے بروقت حل کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ وہ پولیس ایکسیس سروس کے نظام کے افتتاح کے لئے دو دن بعد ٹانک بھی جائیں گے، انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگ پر امن ہیں پر امن ماحول کے لئے عوام کا تعاون انتہائی ضروری ہے ہم سب نے مل کر شہر کا سکون اورماحول برقرار رکھنا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں