The news is by your side.

Advertisement

کوئی آج کیا ہے اور کل کیا ہو گا؟

معلوم ہوا کہ ہدایت جہاں سے ملنی ہوتی ہے، وہیں سے ملتی ہے۔ جہاں کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی نگاہ کام نہیں کرتی، وہاں کسی انتہائی گناہ گار، بد کار اور برے انسان کی بات، بول کام کر جاتے ہیں۔

ماں باپ کہتے کہتے تھک ہار، عاجز آ جاتے ہیں مگر وہی بات کوئی سجن بیلی کہہ دیتا ہے تو فوراً مان لی جاتی ہے۔

بڑے بڑے قابل اور کوالیفائیڈ ڈاکٹروں، معالجوں سے افاقہ نہیں ملتا اور فٹ پاتھ پہ بیٹھنے والے اتائی حکیم سے شفا نصیب ہو جاتی ہے۔

میں نے پڑھا ہے اور بار بار میرے تجربے مشاہدے میں آیا ہے کہ اچھوں، نیکوں اور حاجیوں، نمازیوں سے کہیں زیادہ گناہ گاروں، خطا کاروں اور بروں کی بات میں اثر ہوتا ہے۔ وہ زیادہ دل پذیر اور دل نشین ہوتی ہیں۔

بظاہر بُرے، بدمعاش، اجڑے ہوئے اور شرابی کبابی لوگ اچھوں، نیکوں سے کہیں بڑھ کر وفادار اور وقت پہ کام آنے والے ہوتے ہیں۔ اکثر اچھوں اور نیکوں کے ہاں اپنی پاک طینتی اور دین داری کا زعم و مان ہوتا ہے اور بروں ، بد کاروں، گناہ گاروں کے ہاں عجز ہی عجز، شرمندگی ہی شرمندگی اور ہر وقت خود پہ لعن طعن اور توبہ استغفار ہوتی ہے۔

بس یہی شرم اور خود کو مٹ مٹی سمجھنا ہی میرے اللہ کو پسند ہے۔ کہتے ہیں کہ اتنے خالی پیٹ والے بیمار نہیں ہوتے جتنے کہ خوب بھرے ہوئے پیٹ والے بیمار ہوتے یا مرتے ہیں۔ اس طرح کبھی کسی کو اپنے سے کمتر نہ سمجھو۔ خود کو نیک، اچھا، عبادت گزار، ولی اللہ اور دوسروں کو برا نہ کہو کہ کون جانے، کوئی آج کیا ہے اور کل کیا ہو گا؟ بقول شخصے ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔

(محمد یحیٰی خان کی کتاب "پیا رنگ کالا” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں