The news is by your side.

Advertisement

کمسن بچی کا ’ماسک‘ پہننے سے انکار، مسافروں کو طیارے سے اتار دیا گیا

نیویارک: امریکا میں کمسن بچی نے فیس ماسک پہننے سے انکار کیا تو تمام مسافروں کو طیارے سے اتار دیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست اورلینڈو سے نیوارک جانے والی فلائٹ میں خاتون کے ہمراہ موجود کمسن بچی نے فیس ماسک پہننے سے انکار کیا تو جیٹ بلیو ایئرلائن انتظامیہ نے تمام مسافروں کو طیارے سے آف لوڈ کردیا۔

بچی کی والدہ چیا بروک کا کہنا تھا کہ ’فلائٹ میں سفر کرنے کا تکلیف دہ تجربہ رہا، میرے بچے رو رہے تھے اورہ وہ تکلیف میں تھے۔‘

خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ ’کیا مجھے اس کے ہاتھ پاؤں باندھنا چاہئے، آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے، بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ صرف مجھے طیارے سے اتارنا چاہتے تھے۔‘

رپورٹ کے مطابق بچی کی والدہ فلیٹ بش میں رہائش پذیر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے بچوں کے ہمراہ تنہا سفر کررہی تھی، میں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر کے بارے میں فلائٹ اٹینڈنٹ کو بتایا لیکن وہ پھر بھی نہیں مانیں۔

خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے بچی کی ناک اور منہ کو ڈھانپا تھا لیکن وہ پھر سے اسے کھینچ رہی تھی۔

بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ چند منٹ بعد کریو ممبر میرے پاس آئے اور بتایا کہ اپنی چیزیں جمع کرلیں اور آپ کو جہاز سے اترنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون نے طیارے سے اترنے سے انکار کیا تو انتظامیہ نے سب کو طیارے سے اتار دیا اور کہا کہ سب کو طیارے میں واپس بلا لیا جائے گا، خاتون ایئرلائن انتظامیہ کے اس رویے سے ناخوش تھیں۔

جیٹ بلیو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ چہرہ ڈھاپنے کی پالیسی کو حال ہی میں اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جس کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دو سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو بھی چہرہ ڈھاپنا چاہئے جبکہ خاتون کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایئرلائن انتظامیہ اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے گی کہ جو بچے ماسک نہ پہننا چاہیں انہیں جانے دیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں