طیارہ حادثہ: بدقسمت مسافروں‌ کی عزیزوں سے آخری گفتگو ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثہ: بدقسمت مسافروں‌ کی عزیزوں سے آخری باتیں

حادثے نے کتنے ہی گھروں میں صف ماتم بچھادی، کسی کا جیون ساتھی چھن گیا، کسی ماں کا لخت جگر کیا تو کسی نے اپنا باپ کھودیا اور کسی کی ماں اس سے محروم ہوگئی، دوماہ کی دلہن کا جوڑا خون سے سرخ ہوگیا۔

بدقسمت طیارے کی ایئرہوسٹس اسما نے شوہر سے کہا کھانا ساتھ کھائیں گے، ایئر گارڈ سمیع نے بھائی کو فون کیا کہ گھر آکر ضروری بات کرنی ہے ان بدنصیب افراد نے اپنے عزیزوں سے آخری گفتگو کیا کی یہ چند مرحومین کے عزیزوں نے بتایا تاہم بہت سارے افراد کی باتیں دلوں میں ہی رہ گئیں۔


اسی سے متعلق: مرحوم پائلٹ صالح نے پاکستان کے خوبصورت مناظر اجاگر کیے


بدقسمت طیارے کی فضائی میزبان اسما نے شوہر سے کھانا ساتھ کھانے کا کہا اور طیارے میں سوار ہوگئیں، شوہر کی بیوی سے آخری بات تین بجے ہوئی اور چار بج کر 40 منٹ پر حادثہ ہوا، اسما نے شوہر سے کہا کہ ساڑھے چاربجے مجھے پک کرلیں، شوہر نے چترال سے اسما کے لیے کباب لے کر رکھے لیکن دونوں کو یہ ساتھ کھانا نصیب نہ ہوا۔


پی کے 661 کے حادثے میں ڈی جی خان کے سمیع اللہ اشہد بھی جاں بحق ہوئے، سمیع اللہ ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس میں ایئرگارڈ تھے، انہوں نے چھٹیاں گزار کر ڈیوٹی جوائن کی تھی اور بھائی سے کہا کہ دو بجے ڈیوٹی پر جا کر واپس آنے کے بعد ضروری بات کروں گا۔


یہ پڑھیں: طیارہ حادثہ:42 لاشوں کی شناخت ‌میں‌ ہفتہ لگے گا، لواحقین رو گئے


جیون ساتھ کا ہاتھ تھامے اور آنکھوں میں خواب سجائے چترال کی عائشہ عثمان کو بھرپو ر زندگی جینا نصیب نہ ہوا،چترال کی عائشہ عثمان کو زندگی نے اپنا عہد نبھانے کی مہلت نہیں دی، عائشہ کی دو ماہ قبل شادی ہوئی اس نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم فل کیا تھا، سرخ جوڑا پہنے اسے دوماہ ہی ہوئے تھے کہ اب اس کا لباس خون میں ڈوب گیا اور اب اسےسفید لباس پہنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کا حکم، جنید جمشید کے بیٹے کو فون

فیصل آباد کے علاقے سمندری کا رہائشی 20 سالہ محنت کش عامر ماں کی بیماری کا سن کر چترال سے بدقسمت طیارے میں واپس آرہا تھا مگر معلوم نہ تھا کہ اب کبھی ملاقات نہ ہوسکے گی۔

وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی اور خاندان کا واحد کفیل تھا جو ماں کی بیماری کی اطلاع ملنے پر واپس آ رہا تھا۔ بیٹے کے چھن جانے کی خبر ملنے پر بیمار ماں اور بہنوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

بہنوئی کا کہنا ہے کہ عامر اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا جو اب دنیا میں نہ رہا۔

چار بہنوں کا اکلوتا بھائی پانچ ماہ پہلے رزق کمانے کے لیے چترال گیا تھا تو اب اس کی لاش ہی واپس آئی

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا طیارہ کیسے گر کر تباہ ہوا؟ تحقیقات شروع،بلیک بکس مل گیا

فیصل آباد کا ایک اور سپوت خالد مقصود بھی حادثے کا شکار ہوا، خالد مقصود کا بیٹا اپنے والد کی گفتگو یاد کرکے روتا اور بے چین ہوتا رہا، اس نے بتایا کہ میری آخری بات ہوئی تو ابو نے کہا ایئرپورٹ پر بیٹھا ہوں واپس آرہا ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں