جمعرات, فروری 19, 2026
اشتہار

پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر

اشتہار

حیرت انگیز

پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر آگئی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ پاکستان کے عام شہریوں کو نئے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔

پاکستان کا ہر شہری بیرون ملک سفر کے لیے پاسپورٹ کا حقدار ہے کیونکہ یہ انہیں ملک کے سفارت خانوں کے ذریعے بیرون ممالک میں رہائش کے دوران تحفظ فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کا درست پاسپورٹ رکھنے والا، جب بیرون ملک ہو اس ملک میں پاکستان کے سفارتی اور قونصلر نمائندے کے تحفظ کا حقدار ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں: بچوں کا پاسپورٹ بنوانے کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اعلان

علاوہ ازیں پاسپورٹ واحد دستاویز ہے جو پاکستان کے بیرون ملک مقیم شہری کی شناخت کی تصدیق کرتی ہے، ساتھ ہی ملک سے باہر نکلنے اور ملک میں داخل ہونے کے اس کے حق کا احساس کرتی ہے۔

پاسپورٹ کے لیے درکار دستاویزات

پہلی بار پاسپورٹ کے حصول کے لیے درخواست دہندہ مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ متعلقہ پاسپورٹ آفس یا فارن مشن جا سکتا ہے۔ پہلی بار پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل دستاویزات درکار ہیں۔

اوریجنل بینک ادا شدہ فیس چالان (رسید) یا ای-ادائیگی کی تصدیق کی تفصیل (پی ایس آئی ڈی نمبر کے ساتھ رسید، ایس ایم ایس، ای میل) کے ذریعے تجویز کردہ پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کا ثبوت درکار ہے۔

اصل درست شناختی کارڈ یا نائیکوپ فوٹو کاپی کے ساتھ ہونا چاہیے۔

سرکاری، نیم سرکاری یا خود مختار ادارے کے ملازمین کی صورت میں متعلقہ محکمے سے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) لازمی درکار ہے۔

غیر ملکی پاسپورٹ اس کی فوٹو کاپی کے ساتھ، (صرف دوہری شہریوں کے لیے) ہوگا۔

اکتوبر 2025 کے لیے پاسپورٹ فیس

تازہ ترین شیڈول کے تحت، 36 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کی فیس عام زمرے کے تحت پانچ سال کے لیے 4,500 روپے اور دس سال کے لیے 6,700 روپے ہے جبکہ ارجنٹ پر بالترتیب 7500 اور 11200 روپے  ہے۔

72 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کی عام فیس پانچ سال کے لیے 8200 روپے اور دس سال کے لیے 12400 روپے مقرر کی گئی ہے جس کی ارجنٹ فیس 13500 اور 20,200 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح 100 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کی قیمت پانچ سال کے لیے 9000 روپے اور عام کیٹیگری کے تحت دس سال کے لیے 13500 روپے ہوگی، جبکہ ارجنٹ اجراء پر بالترتیب 18000 اور 27000 روپے وصول کیے جائیں گے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں