منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

یادِ رفتگاں:‌ لوک گلوکار پٹھانے خان کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

برصغیر میں‌ جہاں بزگانِ دین اور صوفیائے کرام نے پیار محبّت اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کیا، وہیں وابستہ ہر مذہب، قوم اور رنگ و نسل کے لوگوں‌ کو آپس میں‌ جوڑنے اور قریب لانے کے لیے فن کاروں‌ نے بھی اپنا حصّہ ڈالا۔ اس کے لیے ان فن کاروں نے لوک موسیقی اور صوفیانہ کلام کا سہارا لیا اور پٹھانے خان انہی فن کاروں میں‌ سے ایک تھے۔ لوک گلوکار پٹھانے خان کی آواز کا سحر آج بھی برقرار ہے اور بالخصوص ان کا گایا ہوا صوفیانہ کلام بہت عقیدت اور احترام سے سنا جاتا ہے۔ آج پٹھانے خان کی برسی ہے۔

سرائیکی خطّے کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ غلام فرید اور شاہ حسین قابل ذکر ہیں جن کا کلام پٹھانے خان نے گایا تو ان کی شہرت پاک و ہند سے نکل کر برصغیر اور دنیا بھر میں پھیل گئی۔ یہ ان صوفیائے کرام کے کلام کا اعجاز بھی ہے اور پٹھانے خان کا سوز اور آواز کی تاثیر بھی ہے جس نے انھیں دنیا بھر میں پہچان دی۔ پٹھانے خان نے بابا بلھے شاہ، مہر علی شاہ اور کئی دوسرے شعرا کا عارفانہ کلام بھی گایا۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ پٹھانے خان نے غزلیں‌ بھی گائیں، مناجات اور کافیاں بھی جنھیں لوک گائیکی کا شوق رکھنے والے دنیا بھر میں‌ ان لوگوں نے بھی بڑے ذوق و شوق سے سنا اور سراہا جو اردو یا سرائیکی اور پنجابی بولی نہیں‌ جانتے۔ خواجہ غلام فرید کی کافی ’میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں‘ پٹھانے خان کی آواز میں‌ شہرۂ آفاق ثابت ہوئی۔

استاد پٹھانے خان 1926ء کو بستی مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کی بستی تمبو والی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام میاں خمیسا تھا۔ پٹھانے خان کا پیدائشی نام غلام محمد تھا۔ لیکن بعد میں یہ نام تبدیل کرکے پٹھانہ رکھ دیا گیا اور لوگ انھیں پٹھانے خان پکارنے لگے۔ پٹھانے خان نے اٹھارہ سال کی عمر کے لگ بھگ شادی کی، خدا نے انھیں سات بیٹیوں اور چار بیٹوں سے نوازا تھا۔ خان صاحب نے اپنی زندگی نہایت سادگی اور فقیروں کی مانند گزاری۔ کہتے ہیں کہ خان صاحب نے باقاعدہ موسیقی کی تربیت حافظ نذر حسین سے حاصل کی جن کا تعلق کہروڑ پکا سے تھا۔ بعد میں‌ پٹھانے خان کو ریڈیو پاکستان ملتان پر اپنے فن کا اظہار کرنے کا موقع ملا اور ان کی آواز ملک بھر میں‌ سنی جانے لگی۔ بعد میں وہ ٹیلی وژن پر اپنے مخصوص انداز میں لوک گیت اور صوفیانہ کلام گاتے دکھائی دیے اور ملک گیر شہرت پائی۔

استاد پٹھانے خان کے فن اور ان کے طرزِ‌ گائیکی کی تعریف اپنے وقت کے معروف موسیقاروں اور لوک گلوکاروں نے کی ہے اور ان کا گایا ہوا کلام کئی دوسرے فن کاروں نے محافل میں سنا کر خود بھی سامعین سے سمیٹی۔

لوک گلوکار پٹھانے خان 9 مارچ سنہ 2000ء میں انتقال کرگئے تھے۔ انھیں خان کوٹ ادو میں واقع ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں