The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے صحت یاب مریضوں کو پراسرار بیماری کا سامنا

برلن: کروناوائرس سے صحت یاب مریضوں کو ایک سنگین مرض کا سامنا ہے، وبا کو شکست دینے والے مریضوں کے دل میں ورم(سوجن) ایک پراسرار بیماری بن گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد مریضوں کے دل میں پراسرار طور پر سوجن کی شکایات سامنے آرہی ہیں اور ڈاکٹر اس کی اصل وجہ تاحال دریافت نہ کرسکے۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے مخصوص مریضوں پر مشاہدہ کرکے دریافت کیا کہ ہر 3 میں سے 2 مریضوں کے دل میں سوجن کووڈ 19 سے صحتیابی کے 71 دن بعد بھی موجود رہی جبکہ تین ماہ بعد متعدد مریضوں میں پھیپھڑوں کے نقصانات بھی سامنے آئے۔

کرونا سے صحت یابی کے بعد طویل المعیاد اثرات نے ماہرین کے لیے نیا چیلنج کھڑا کردیا ہے، صحت یاب مریضوں کو دماغی دھند کا بھی سامنے ہے جن میں مختلف دماغی افعال کے مسائل بشمول یادداشت کی محرومی، ذہنی الجھن، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور روزمرہ کے کام کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔

کورونا سے صحت یاب مریض کون سے دیرینہ مسائل کا شکار رہتا ہے

کرونا سے پاک ہونے والے مریض کا کہنا ہے کہ وہ ان اثرات سے روز مرہ کے معمولات پہلے جیسے انداز میں نبھانے سے قاصر ہیں، صحت یاب مریضوں میں طویل المیعاد اثرات میں عام خارش، تھکاوٹ، سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی اور دیگر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

جبکہ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کتنے عرصے تک یہ علامات صحت یاب مریض کے جسمانی نظام میں رہتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اثرات کا ہزاروں مریضوں کو سامنا ہے اور دماغی دھند سے متعلق اب تک اصل وجہ دریافت نہیں کی جاسکی، ایسے افراد بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں جن میں کرون کی شدت معتدل تھی اور پہلے سے کسی بیماری کے شکار نہیں تھے۔ البتہ کئی ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شریانوں میں ورم دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کرونا کے خلاف مدافعی نظام بدستور متحرک رہتا ہے جو وائرس کے خاتمے کے بعد ممکنہ طور پر منفی اثرات بھی مرتب کرتا ہے، دماغ کی سوجن اور دیگر علامات کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں