The news is by your side.

Advertisement

آسٹریلین سینیٹر کی برقع پہن کرسینیٹ آمد

کینبرا: آسٹریلوی دائیں بازو سے وابستہ خاتون سینیٹر پالین ہینسن برقع پہن کراس وقت سینیٹ آگئیں جب ان کی پارٹی برقع پر پابندی کے خلاف ووٹ دینا چاہتی تھی۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی دائیں بازو کی جماعت ’ون نیشن‘ سےکی رکنِ پارلیمان پالین ہینسن سینیٹ میں برقع پہن آ گئیں جب وہ سینیٹ میں آئیں تو حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کیا۔

آسٹریلوی سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا کہ نہیں سینیٹر ہینسن، ہم برقعے پر پابندی نہیں لگا سکتے۔

پالین ہینسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج کل کے جدید آسٹریلیا میں عوامی مقامات پر چہرے کو پورا ڈھکنا بڑا مسئلہ ہے اور اس پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔‘

اٹارنی جنرل جارج برینڈس نےخاتون سینیٹر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا یہ اقدام مذہبی تنظیموں کو ناگوار گزر سکتا ہے۔


جرمنی میں خواتین کےنقاب پہننے پرپابندی


یاد رہے کہ رواں سال اپریل کو جرمنی میں سرکاری ملازم خواتین پردوران ملازمت نقاب پہننے پرپابندی کا قانون منظورکیا گیا تھا۔


آسٹرین صدر نے نقاب پہننے اور قرآن تقسیم کرنے پر پابندی کی منظوری دے دی


واضح رہے کہ رواں برس جون میں یورپی ملک آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیر بیلن نے خواتین کے نقاب کرنے اور عوام میں قرآن کے نسخے تقسیم کرنے پر عائد پابندی کی منظوری دی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں