site
stats
کھیل

ٹی ٹین لیگ کے خلاف پروپیگنڈہ کی مذمت کرتے ہیں، پی سی بی

لاہور : ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی 10 لیگ کو مسترد نہیں کیا ہے جب کہ 6 ملکوں کے کرکٹ بورڈز نے اپنے کھلاڑیوں کو ٹی-ٹین کھیلنے کی اجازت دے رکھی ہے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس اہم ایونٹ کے اسپانسرز کمپںیوں کے مالکان مسلمان اور پاکستانی ہیں۔

ترجمان پی سی بی کے مطابق ایک میڈیا گروپ میں ٹی ٹین لیگ کے حوالے سے منفی کالم شائع کیا گیا ہے جس پر بورڈ ان خبروں اور آرٹیکل کو بے بنیاد، حقائق کے برعکس اور محض پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے اور اس منفی رجحان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس قسم کی غلط خبروں کی اشاعت پر دھچکا پہنچا ہے اور یہ مذموم پروپیگنڈا پاکستان کرکٹ کی خودمختاری پرحملہ ہے۔

پی سی بی کا کہنا تھا کہ ایک میڈیا گروپ نے ذاتی مفاد کی خاطر پی سی بی کو گھسیٹ کر ملکی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے حالانکہ خبر کے برعکس آئی سی سی نے ٹی 10 لیگ کو مسترد نہیں کیا بلکہ ٹی 10 لیگ سے تعاون کرتے ہوئے اینٹی کرپشن یونٹ بھی فراہم کیا ہے اور ایونٹ کو سری لنکا و بنگلادیش بورڈز کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔

بورڈ آفیشل کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے اس ایونٹ کے لیے 10 کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دی ہے جس سے حاصل رقم ملک میں کھیلوں کے فروغ میں استعمال ہوگی چنانچہ ٹی ٹین اور پی ایس ایل کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ ممکن نہیں کیوں کہ ٹی ٹین 4 دن اور پی ایس ایل 6 ہفتوں پر مشتمل طویل ایونٹ ہے اسی طرح ٹی ٹین لیگ صرف ایک جگہ جب کہ پی ایس ایل 4 وینیوز پر کھیلا جائے گا۔

ترجمان پی سی بی نے مزید کہا کہ لیگ کی کمپنیوں کے 80 فیصد شیئرز کے مالک پاکستانی ہیں اور کمپنیوں کے تمام مالکان مسلمان اور پاکستانی ہیں جب کہ صرف ایک کمپنی غیرملکی مسلمان کی ہے اسی طرح ٹی ٹین کھیلنے کے لئے اجازت دینے والوں میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، ساؤتھ افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش بورڈز بھی شامل ہیں۔

ترجمان پی سی بی نے کہا کہ مندرجہ بالا تمام حقائق مذکورہ میڈیا گروپ کی رپورٹس اور کالم کو لغو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں چنانچہ میڈیا گروپس سے ذمہ درانہ رپورٹنگ کی توقع کی جاتی ہے جو پاکستان میں کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو ناکہ اس میں رکاوٹ بنیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top