پچ فکسنگ اسکینڈل: پی سی بی نے حسن رضا کا نام سامنے آنے پر نوٹس لے لیا -
The news is by your side.

Advertisement

پچ فکسنگ اسکینڈل: پی سی بی نے حسن رضا کا نام سامنے آنے پر نوٹس لے لیا

ویڈیو مجھے پھنسانے کے لیے بنائی گئی، شک ہوا کہ میچ فکسنگ کی بات ہورہی ہے تو گفتگو سے ہٹ گیا، حسن رضا

لاہور: سری لنکا میں وکٹ فکسنگ اسکینڈل میں پاکستانی کرکٹر حسن رضا کا نام بھی سامنے آگیا، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی اور اینٹی کرپشن یونٹ پچ فکسنگ اسکینڈل میں حسن رضا کے حوالے سے شواہد اکھٹے کرے گا، کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے اس اہم معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بتایا کہ کرکٹر حسن رضا کے خلاف شواہد ملے تو کارروائی کی جائے گی، ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات تک پی سی بی کی جانب سے کوئی بیان نہیں دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عرب ٹی وی الجزیرہ سے تعلق رکھنے والے ایک رپورٹر نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے سری لنکا میں کرکٹ میچ فکسنگ کی نئی سازش بے نقاب کی ہے۔

الجزیرہ کے رپورٹر نے بزنس مین بن کر گال اسٹیڈیم کے اسسٹنٹ مینجر تھرانگا اندیکا اور سابق بھارتی کرکٹر رابن مورس سے ملاقات کی اور تمام گفتگو خفیہ کیمرے سے ریکارڈ کی، اس ویڈیو میں حسن رضا بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ پچ فکسنگ اسکینڈل کے تحت گال اسٹیڈیم کے اسٹاف نے سری لنکا انگلینڈ ٹیسٹ کے لیے پچ خراب کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، یہ اپنی نوعیت کا ایک نیا فکسنگ اسکینڈل ہے۔

حسن رضا کا رد عمل


دوسری طرف سابق پاکستانی بلے باز حسن رضا نے کہا ہے کہ جس ویڈیو میں مجھے دکھایا گیا ہے وہ پرانی ہے اور یہ مجھے پھنسانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ عجمان کی ویڈیو ہے جہاں ہم ایک مقامی ٹورنامنٹ میں کھیلنے گئے تھے۔

لارڈز ٹیسٹ: تیسرا روز، انگلینڈ کے6وکٹوں کے نقصان پر235رنز


ان کا کہنا تھا کہ سینٹرل کنٹریکٹ لسٹ میں نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے عجمان دورے سے متعلق پی سی بی کو مطلع نہیں کیا تھا، نہ ہی بورڈ کے ساتھ زیادہ رابطے میں تھا۔

حسن رضا نے کہا کہ جب مجھے شک ہوا کہ میچ فکسنگ کی بات ہورہی ہے تو میں گفتگو سے ہٹ گیا، ان کا کہنا تھا کہ میں پی سی بی اور آئی سی سی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں