افغان مسئلے کا حل صرف سیاسی ہے، فوجی نہیں، تمام دھڑے متحد ہوں، پاکستان -
The news is by your side.

Advertisement

افغان مسئلے کا حل صرف سیاسی ہے، فوجی نہیں، تمام دھڑے متحد ہوں، پاکستان

ماسکو : افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے سیاسی عمل کی حمایت کردی، پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف سیاسی ہے فوجی نہیں، افغان دھڑوں کو اختلافات ختم کرکے مفاہمت کا آغاز کرنا ہوگا۔

یہ بات وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے افغانستان محمد اعجاز نے ماسکو میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، روس کی میزبانی میں جاری افغانستان میں دیرپا امن و استحکام اور افغان امن مذاکرات کیلئے تین روزہ کانفرنس کے پہلے روز پاکستان نے دیرپا افغان امن کیلئے حکمت عملی دے دی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا حل صرف سیاسی ہے، فوجی نہیں، افغان دھڑوں کو اختلافات ختم کرکے مفاہمت کا آغاز کرنا ہو گا، افغان امن کی منزل مشکل ہے، اس کے لیے تمام فریقین کو اپنے رویوں میں لچک دکھانا ہو گی۔

محمد اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن کے تمام فریقین مؤقف وتحفظات کا واضح اظہار کریں اور سخت مؤقف چھوڑ کر غیرمشروط مذاکرات یقینی بنائیں، مفاہمتی عمل کی نتیجہ خیزی کیلئے سب کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہمسایہ ممالک کے تحفظات کا تدراک کیا جائے، افغان مفاہمت کے گرد علاقائی، عالمی ضمانتوں کا حصار کھینچنا ہوگا، مذاکرات سے نئے خیالات اور افغان امن کاوشیں آگے بڑھیں گی۔

اس مسئلہ کا افغانستان کے سماجی، سیاسی، معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر حل نکالا جائے، یقین محکم اور مخلصانہ کاوشوں سے ہی منزل آسان اور نتیجہ مفید ہوگا، پاکستان نے افغان مسئلہ کے فریقین کو ایک میز پر لانے کوا حسن اقدام قرار دیا، افغان دیرپا امن ،استحکام اور خوشحالی کیلئے روس کی کاوش کلیدی ہے۔

وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ کانفرنس میں افغان حکومت اور طالبان رہنماؤں کی شرکت خوش آئند ہے، افغان، پاکستان ایکشن پلان برائے امن مخلصانہ پاکستانی کاوشوں کا مظہر ہے۔

مزید پڑھیں: ماسکو، افغان امن مذاکرات کا آغاز، طالبان وفد کی شرکت

پاکستان، مستحکم، پرامن افغانستان کی ہر کاوش کی حمایت کرتا رہے گا، افغان تنازع کے سیاسی حل کی سوچ کا پیدا ہونا باعث اطمینان ہے، پاکستان نے افغان امنگوں کے مطابق افغان حل کا مرکزی خیال دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں