The news is by your side.

Advertisement

پیکا آرڈیننس بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا

کوئٹہ : پیکا آرڈیننس بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ، جس میں کہا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے اس کو منسوخ کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان یونین آف جرنلسٹ نے بلوچستان بار کونسل کے پلیٹ فارم سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

بے یو جے کے صدر عرفان سعید کی جانب سے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر میں آئینی درخواست جمع کرادی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس غیر قانونی اور آئین سے متصادم ہے اس کو منسوخ کیا جائے۔

درخواست جمع کرنے کے موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے چیت کرتے ہوئے بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین راحب بلیدی نے کہا کہ بی یوجے نے بلوچستان بارکونسل کی پلیٹ فارم سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کردیا ہے۔

راحب بلیدی کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ ایک کالا قانون ہے ملک کے اندر پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی آرڈیننس خود ایک وائیلیشن ہے یہ قانون آزادی صحافت پر حملہ ہیں صوبے کے عوام اور صحافیوں نے اس آرڈیننس کو مسترد کیا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر عرفان سعید نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے جلدی بازی میں جو اقدام اٹھائے ہیں یہ میڈیاکی آواز کو دبانے کی کوشش ہیں، ملک میں پہلے سے موجود قانون پر عملدرآمد ہوجاتے تواس آرڈیننس کی نوبت ہی نہیں آتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجود ہ حکومت ماضی میں میڈیا پر آکر کر حکمرانوں پر تنقیدکرتی رہی اور اسی میڈیانے ہائی لائٹ کیا، پیکا ایکٹ کے خلاف ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں متحدہے جب تک پیکا آرڈیننس واپس نہیں لیاجاتا ہماری جدوجہد جاری رہی گی اور امید ہے عدلیہ کالے قانون کو کالعدم قرار دے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں