ترقی یافتہ ممالک میں پیدل چلنے والوں کے حقوق کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، قانون کا احترام، ٹریفک قوانین کا شعور اور پابندی مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔
ان حقوق میں ڈرائیوروں پر پیدل چلنے والوں کو ترجیح دینے کی ذمہ داری، زیبرا کراسنگ پر رکنے کا قانون اور معذور افراد، بچوں، اور بزرگوں کے لیے خصوصی تحفظ شامل ہے۔
پیدل چلنے والوں کے حقوق میں محفوظ راستے (فٹ پاتھ، اوور ہیڈ برج) کا حصول، زیبرا کراسنگ پر گاڑیوں سے تحفظ اور ڈرائیوروں کی جانب سے اضافی احتیاط شامل ہیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب پیدل چلنے والوں کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی زیبرا کراسنگ کے متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد کریں۔
اس سلسلے میں جرمنی میں موجود اے آر وائی نیوز کے نمائندے نے فرینکفرٹ کی سڑک پر شہریوں کی جانب سے روڈ کراس کرنے کے طریقے اور ٹریفک سگنل کے گرین ہونے پر وہاں سے گزرنے کے عمل کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جس طرح عام گاڑیاں ٹریفک سگنلز کے اشارے پر نقل و حرکت کرتے ہیں بالکل اسی طرح پیدل چلنے والے شہری بھی سگنل کے گرین ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔
عام فہم الفاظ میں گاڑی چلانے والوں سے پیدل چلنے والوں کے حقوق زیادہ ہیں لیکن ان کیلئے قواعد پر عمل کرنا بھی لازمی ہے جیسا کہ ٹریفک رولز کے مطابق اگر سڑک پر فٹ پاتھ نہ ہوں تو سڑک سے ہٹ کر اس کے کچے حصے پر چلیے۔
اس کے علاوہ اگر کچا حصہ بھی نہیں تو سڑک کے انتہائی دائیں کنارے پراس طرح چلیے کہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو آپ دیکھ سکیں۔
پیدل چلنے والوں کی حفاظت اس بات پر بھی منحصر ہے کہ وہ کامن سینس (عقل) کا استعمال کتنا کرتے ہیں لیکن محفوظ رہنے کے لئے صرف عقل کافی نہیں ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں سڑک کے قوانین ہر اس شخص کی حفاظت کے لیے ہیں جو سڑکوں اور راستوں کو شئیر کرتے ہیں۔
محمد صلاح الدین اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ہیں اور ایوی ایشن سے متعلقہ امور کی رپورٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں



