site
stats
پاکستان

طالب علم کی سوچ کوئی نہیں جان سکتا، نظر رکھنے کی ضرورت ہے، پیرزادہ قاسم

کراچی: جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم نے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یہ نہیں جان سکتی ایک طالب علم کیا سوچ رہا ہے، طلبہ میں سیاسی چپقلش ہوتی تھی مگر شدت پسندی کے آثار کہیں نہیں ملے تھے، اگر کچھ طلبہ الگ ہوکر کام کرنا شروع کریں تو اُن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی اور دیگر یونیورسٹیز سے پڑھے لکھے  انصار الشریعہ کے پڑھے لکھے دہشت گردوں کی گرفتاریاں جہاں قابلِ تشویش ہیں وہی یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس معاملے پر خاصہ پریشان دکھائی دے رہی ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم کہتے ہیں کہ عام طور پر بڑی یونیورسٹیز میں داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں، میرے دورے میں سیاسی اختلافات ہوتے تھے مگر طلبہ میں شدت پسندی موجود نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کے باعث رویوں میں فرق آتا ہے اس ضمن میں نقائص دور کرنے کی بہت ضرورت ہے، یونیورسٹی سے دہشت گردوں کی گرفتاری کے معاملے پر تشویش ہے تاہم ایچ ایس سی بھی اس معاملے پر غور کررہی ہے۔

پیرزادہ قاسم نے کہا کہ یونیورسٹی میں کچھ طالب علم بدلنا شروع ہوجاتے ہیں اور الگ ہوکر مشکوک سرگرمیاں شروع کردیتے ہیں، یونیورسٹی کے تمام شعبوں کو ایسے طالب علموں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔

ماہر نفسیات

طلبہ کے شدت پسندی میں ملوث ہونے پر ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ شدت پسندی کے باعث جسمانی اور نفسیاتی تبدیلی آتی ہے، استاد اور والدین ہی اپنے بچوں کو شدت پسندی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ طالب علم سے استاد کا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اساتذہ طلبہ سے غیر رسمی گفتگو کرتے تھے جس سے اُن کے خیالات کا علم ہوجاتا تھا اور وہ طلبہ کے نقائص کو باآسانی دور کردیتے تھے تاہم اب ایسا نہیں ہورہا۔

چیئرمین ایچ ای سی

ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے یا یونیورسٹی میں شدت پسند موجود ہوسکتے ہیں مگر ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور شدت پسند گروپ کے بننے کے محرکات کو دور کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ یورپ میں بھی نوجوان طلبہ کو آلہ کار بناکر شدت پسندی کرائی جارہی ہے مگر  وہاں کی حکومتیں طلبہ کے لیے ذہنی مشقیں کرواتی ہیں اور اس پہلو کو اجاگر کرتی ہیں، سروش صدیقی مسلسل فیل ہوتا رہا مگر اُس کے اہل خانہ نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شدت پسندی کی طرف راغب ہوگیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top