The news is by your side.

پیمرا کا نشریات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا آئین شکنی ہے، سندھ ہائیکورٹ

کراچی: سندھ ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ پیمرا کو نشریات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہے، ایسے کیبل آپریٹرز کیخلاف کارروائی نہ کرنا ذمہ داریوں سے فرار اور آئین شکنی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کی بندش کیخلاف سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود چینل کی نشریات بحال نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

اے آر وائی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست چیئرمین پیمرا، سیکریٹری اطلاعات، کیبل آپریٹرز کیخلاف دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے چیئرمین پیمرا، سیکریٹری اطلاعات اور کیبل آپریٹرز کو 2 دن میں تعمیلی رپورٹ کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے 2010 کے فیصلے کی روشنی میں فریقین کو جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اے آر وائی نیوز کے وکیل عابد زبیری نے عدالت میں پیش کیا، سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکمنامے میں شامل کردیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں براڈکاسٹر، پیمرا، کیبل آپریٹر اور سبسکرائبر کے حقوق کا تعین کیا گیا ہے، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق کسی بھی چینل کی نشریات آسمانی آفت کے سوا معطل نہیں کی جاسکتیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ کیبل آپریٹرز آئینی، اخلاقی اور مالی طور پر مسلسل نشریات یقینی بنانے کے پابند ہیں، پیمرا چینل اور اس کے سبسکرائبرز کے حقوق کا محافظ ہے، سبسکرائبرز اپنی محنت کی کمائی سے کیبل آپریٹرز کو فیس ادا کرتے ہیں، کیبل آپریٹرز اپنی مرضی سے کسی چینل کی نشریات میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آر وائی کا نشریات کی فوری بحالی کیلئے 219 کیبل آپریٹرز کو نوٹس

عدالت عظمی نے کہا کہ پیمرا کو نشریات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہے، ایسے کیبل آپریٹرز کیخلاف کارروائی نہ کرنا ذمہ داریوں سے فرار اور آئین شکنی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ چیئرمین پیمرا کو ایسے کیس میں ذاتی مانیٹرنگ کا حکم دے چکی ہے، ایسے کیس میں سپریم کورٹ چیئرمین پیمرا کو رپورٹ کا حکم بھی دے چکی ہے۔

عدالت نے تحریری حکم نامہ میں کہا ہے کہ تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر چیئرمین پیمرا، سیکریٹری اطلاعات اور کیبل آپریٹرز 24 اگست کو پیش ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں