The news is by your side.

Advertisement

غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کی سزا بڑھا کر 5 سال کر دی گئی

پشاور: خیبر پختون خوا کی صوبائی کابینہ نے منرل سیکٹر گورننس ترمیمی بل منظور کر لیا، بل میں غیر قانونی کان کنی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا، 5 سال تک قید کی سزا ہو سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق کے پی اسمبلی میں غیر قانونی مائننگ کے سلسلے میں ایک ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کی سزا 3 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کو سزا کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے، جب کہ اپیلوں کے بر وقت اور مؤثر فیصلوں کے لیے ایپلٹ ٹریبونل بھی بنائی جائے گی۔

وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد نے اسمبلی میں کہا کہ معدنیات کے شعبے میں بہتری سے معیشت بہتر بنائی جا سکتی ہے، اس بل سے صوبے میں غیر قانونی کان کنی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیے جانے سے اس کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے کہ غیر قانونی کان کنی سے نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس سے مقامی آبادیوں اور پہاڑوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے، ماضی میں ایسا ہو چکا ہے، ایبٹ آباد کے چلیتر گاؤں میں غیر قانونی کان کنی کے باعث مکانوں اور پہاڑوں میں دراڑیں پڑیں، ماہرین نے بتایا تھا کہ گاؤں میں موجود پہاڑ بھی سرک رہا ہے۔

خیال رہے کہ محکمہ معدنیات ملاکنڈ ڈویژن کی جانب سے رواں سال اگست میں کہا گیا تھا کہ معدنیات کی غیر قانونی کان کنی کو روکنے اور معدنیات کی کان کنی کو قانون میں لانے کے باعث صوبائی خزانے کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں