The news is by your side.

Advertisement

یورپ ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہوجائے، امریکا کا مطالبہ

وارسا : امریکا کے نائب وزیر خارجہ مائیک پینس نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلے۔

تفصیلات کے مطابق پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 60 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے نائب وزیر خارجہ مائیک پینس نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد کردہ اقتصای پابندیوں کی حمایت کریں۔

نائب امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کچھ یورپی اتحادی ممالک معاملے پر متوقع تعاون نہیں کررہے، ایران خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہا ہے، ایران کی مذہبی شخصیات پر مشتمل نظام خطے میں توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے۔

مائیک پینس نے ایران نے تجارت کےلیے نئے مالیاتی نظام کی تشکیل پر فرانس، جرمنی اور براطانیہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نظام کی تشکیل کا مقصد ایران پر عائد امریکی پابندیوں سے یورپی کمپنیوں کو بچانا ہے۔

یورپی وزیر خارجہ فیڈریکا موگرینی سمیت فرانس اور جرمنی کے وزراء خارجہ نے بھی وارسا کانفرنس میں شرکت نہیں کی

ذرائع کا کہنا تھا کہ وارسا میں منعقدہ امریکی کانفرنس میں فلسطین نے تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے پر بطور احتجاج شرکت سے انکار کردیا۔

یورپی یونین کی وزیر خارجہ فیڈریکا موگرینی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئی جبکہ جرمنی، فرانس اور اسپین  وزراء خارجہ نے شرکت نے بھی شرکت نہیں کی۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکا کے اہم اتحادی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سمیت خلیجی ممالک کے وزراء خارجہ وارسا کانفرنس میں شریک ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے اتحادی ممالک کے ہمراہ ایران سے جوہری معاہدے طے کیا تھا جس کے بعد ایران پر برسوں سے عائد اقتصادی پابندوں میں نرمی کی گئی تھی لیکن صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں