واشنگٹن (16 اپریل 2026): پینٹاگون نے آٹو میکرز اور مینوفیکچررز سے اسلحہ پیداوار بڑھانے کے لیے رابطہ کیا ہے، وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ آٹو میکرز اور دیگر امریکی مینوفیکچررز اسلحہ کی پیداوار میں بڑا کردار ادا کریں، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنائے گئے طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اعلیٰ امریکی دفاعی حکام نے کئی بڑی کمپنیوں کے سربراہان سے اسلحہ اور دیگر فوجی ساز و سامان کی پیداوار کے حوالے سے بات چیت کی ہے، جن میں جنرل موٹرز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر میری بارا اور فورڈ موٹر کے سی ای او جم فارلے شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی بدھ کے روز شائع رپورٹ کے مطابق، امریکی دفاعی حکام نے جنرل موٹرز اور فورڈ موٹر سمیت دیگر کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے اسلحہ اور فوجی ساز و سامان کی تیاری پر مذاکرات کیے ہیں۔ یہ ابتدائی اور وسیع نوعیت کی بات چیت ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے شروع ہوئی تھی، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آٹو میکرز اور دیگر امریکی مینوفیکچررز کو دفاعی پیداوار میں زیادہ فعال کردار دیا جائے۔
دفاعی حکام نے اخبار کو بتایا کہ روایتی دفاعی کنٹریکٹرز کی معاونت کے لیے امریکی مینوفیکچررز کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اور اس حوالے سے یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا یہ کمپنیاں تیزی سے دفاعی پیداوار کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جی ای ایرو اسپیس اور گاڑیاں اور مشینری بنانے والی کمپنی اوشکوش بھی ان کمپنیوں میں شامل ہیں جنھوں نے دفاعی حکام کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لیا۔
ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بریک تھرو کا امکان ، الجزیرہ کا دعویٰ
پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے روئٹرز کو جاری بیان میں کہا کہ محکمہ دفاع ’’تمام دستیاب کمرشل حل اور ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دفاعی صنعتی بنیاد کو تیزی سے وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ہمارے فوجیوں کو فیصلہ کن برتری حاصل رہے۔‘‘
مارچ میں ٹرمپ نے 7 دفاعی کنٹریکٹرز کے سربراہان سے ملاقات کی، کیوں کہ پینٹاگون ایران اور دیگر حالیہ فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے پر کام کر رہا ہے۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا اپنے اربوں ڈالر مالیت کے اسلحہ ذخائر، جن میں توپ خانے کے نظام، گولہ بارود اور اینٹی ٹینک میزائل شامل ہیں، کم کر چکا ہے۔
اسی ماہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں فوجی بجٹ کو 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے 500 ارب ڈالر کے بڑے اضافے کی درخواست بھی کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی صنعتوں کو دفاعی پیداوار میں بڑا کردار دینے کا منصوبہ دوسری جنگ عظیم کے طرز کی صنعتی حکمت عملی دوبارہ اپنانے کی ایک کوشش ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


