واشنگٹن (12 مارچ 2026): ایران کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، پینٹاگون نے کہا ہے کہ جنگ کے پہلے 6 دن میں 11.3 بلین ڈالرز خرچ کیے گئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی حکام نے منگل کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ میں سینیٹرز کو جنگ میں خرچے کا تخمینہ فراہم کیا، اس تخمینے میں تنازعے سے منسلک کچھ دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں، اور جنگ میں خرچے کا تخمینہ کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
سینیٹر کرس کونز (ڈیموکریٹ، ڈیلاویئر) نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہے، کیوں کہ موجودہ اندازے میں جنگ کے تمام پہلو شامل نہیں ہیں۔ کونز نے کہا ’’مجھے توقع ہے کہ موجودہ مجموعی آپریشنل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اگر آپ صرف استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری کی لاگت دیکھیں تو وہ پہلے ہی 10 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘
یاد رہے کہ امریکی دفاعی حکام نے کانگریس کی بریفنگ میں بتایا تھا جنگ میں صرف پہلے 2 دنوں میں 5.6 ارب ڈالر کا گولہ بارود استعمال کیا گیا، حملوں کی پہلی لہر میں گلائیڈ بم جیسے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کی قیمت 5 لاکھ 78 ہزار ڈالر سے ساڑھے 8 لاکھ تک ہے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
پینٹاگون کے ایک ترجمان نے کہا ’’ہم بند کمرے کی گفتگو یا اس سے متعلق معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔ جہاں تک آپریشن ایپک فیوری کی لاگت کا تعلق ہے، ہمیں اس کی مکمل قیمت اس وقت تک معلوم نہیں ہوگی جب تک مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔‘‘
ایک ہفتے سے بھی کم مدت کی جنگ کے لیے لاگت کا یہ تخمینہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ یہ طے کر رہی ہے کہ بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وہ کانگریس سے اضافی فنڈنگ کے بل میں کتنی رقم طلب کرے گی۔
یہ جنگ اب اپنے گیارہویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں سینکڑوں ہلاکتوں کا سبب بن چکی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


