واشنگٹن(19 مارچ 2026): امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے وائٹ ہاؤس سے ایران کے خلاف جاری جنگی مہم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 200 ارب ڈالر سے زائد کے اضافی فنڈز کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یہ خطیر رقم ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی فوجی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران استعمال ہو جانے والے اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار میں فوری طور پر اضافہ کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں پینٹاگون کی جانب سے فنڈز کے حصول کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، تاہم حالیہ تجویز پر امریکی کانگریس میں شدید سیاسی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن نے اس مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پینٹاگون کے بل کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا یہ جنگ نہ تو امریکی عوام چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ ہمیں محفوظ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بل کے خلاف ہیل نو ووٹ دوں گا۔ اس جنگ کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ اپنے فوجیوں کی بحفاظت واپسی، شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور جاری لاقانونیت پر قابو پانا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں امریکا کی براہِ راست شمولیت پر امریکی سیاست دانوں اور عوام کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ جنگی اخراجات میں اضافے نے معاشی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


