پینٹاگون کی جانب سے عراق میں فوجی مشن کم کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ عراق سے آپریشنز کی منتقلی داعش کے خلاف جنگ میں کامیابی کا نتیجہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا میں بھاری بھرکم موٹی توندوں والے جنرلز کا دور گیا، ترقیاں کوٹے پر نہیں میرٹ پر ہوں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی فوج میں داڑھی بڑھانے پر پابندی ہوگی، جو نئے ایجنڈے کی حمایت پر تیار نہیں ہیں وہ فوجی مستعفی ہو جائیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ احمق سیاسی رہنماؤں نے غلط سمت متعین کی اور امریکا رستے سے بھٹک گیا۔
دوسری جانب یوکرین کے لیے مختص ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پینٹاگون کی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے، یوکرین کے لیے تیار ہتھیار واپس امریکی ذخائر میں بھیجے جا سکتے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے پالیسی چیف کی طرف سے گزشتہ ماہ تحریر کیے گئے ایک میمو میں محکمہ دفاع کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے لیے مختص کیے گئے بعض ہتھیار اور جنگی سامان دوبارہ امریکی ذخائر میں منتقل کر سکتا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا غزہ کے قریب، اٹلی نے دھوکہ دے دیا
اسے ایک ڈرامائی تبدیلی قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ اس سے ممکنہ طور پر جنگ زدہ یوکرین کے لیے مختص اربوں ڈالر واپس امریکی ذخائر میں جا سکتے ہیں، یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی صورت حال پہلے ہی غیر واضح ہے، اب اس میمو نے اس میں اور اضافہ کر دیا ہے، ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ممکنہ طور پر ملاقات کرنے والے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


