The news is by your side.

Advertisement

کابل سے انخلا پرامریکا کا تیز ترین آپریشن، کتنی فلائٹس نے اڑان بھری؟

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے افغانستان سے انخلا میں توسیع نہ دینے سے قبل ہی حکام کی جانب سے ایمرجنسی فضائی آپریشن شروع کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان پینٹاگون جان کربی نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ صدر جوبائیڈن کے اعلان کے بعد انخلا کےآخری دنوں میں ہماری ترجیح فوجی اور فوجی آلات ہونگے، امریکا اپنےفوجیوں کیساتھ اتحادیوں کی فوج نکالنےمیں بھی مدد کریگا۔

جان کربی نے بتایا کہ تیزی سے انخلا کرنے کے لئے کابل ایئرپورٹ سے چوبیس گھنٹے میں پچانوے فلائٹس نے اڑان بھری، یعنی ہر 39 منٹ بعد ایک طیارہ کابل سے روانہ ہوا۔

ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ پراب بھی پانچ ہزار چار سو امریکی اہلکار ڈیوٹی پرموجود ہیں، ائیرپورٹ پرامیگریشن، سفارتخانے کا عملہ تمام افراد کی اسکریننگ کررہا ہے تاہم کابل میں امریکی سفارتخانے پر کوئی فوجی اہلکار تعینات نہیں ہے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کے ساتھ ہر مرحلے پر مسلسل رابطے پر ہیں، طالبان کوآگاہ کررہے ہیں ہماری کیا چیک پوائنٹس ہیں؟ صدربائیڈن چاہتےہیں کہ انخلا کا مشن وقت پر پورا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا 31 اگست تک انخلا مکمل کرنے کا اعلان

پریس بریفنگ میں ہینک ٹیلر نے بتایا کہ ہمارے کمانڈرزطالبان کو بتارہے ہیں کہ کونسی دستاویزمطلوب ہیں، کونسی دستاویز درکار ہیں جولوگوں کوایئرپورٹ کےاندرانٹری دیں اس موقع پر جان کربی کا کہنا تھا کہ ہم نکل جائیں گے توائیرپورٹ کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری نہیں رہےگی۔

ٹام ہینک نے میڈیا کو بتایا کہ آخری فلائٹ تک بحفاظت نکالنے کیلئےہمارے پاس کئی طریقےہیں، ہمیں پتہ ہےکیسےخود کومحفوظ طریقے سےنکالناہے۔

ایک سوال کے جواب میں جان کربی کا کہنا تھا کہ دو کانگریس ارکان نےکس طرح فلائٹ بورڈ کی نہیں پتہ؟ فلائٹ میں کیا گنجائش تھی؟ کتنےمسافرلانےتھےاس وقت نہیں بتایاجاسکتا؟ یہ درست ہے کہ وہ فوجی طیارےمیں سوارہوکر ہی افغانستان گئے۔

جان کربی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان سے انخلا میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے اس کے علاوہ افغانستان کے تمام پڑوسیوں کا معاملے میں کردار اہم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں