The news is by your side.

Advertisement

‘شہباز شریف کی مبینہ ضمانت کا فیصلہ چپڑاسی نےسنایا’

معاون خصوصی برائے حتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی مبینہ ضمانت ‏کافیصلہ عدالت نےنہیں ایک چپڑاسی نےسنایا۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزاد اکبر نے لکھا کہ سچ یہ ہے دونوں ججزز کا اتفاق نہیں ہوسکا، عدالتی ‏کارروائی جاری تھی تو کچھ چینلز نےضمانت کی پیشگی خبرکس کی ایما پر چلائی، چیف جسٹس ‏کواس بات کی تحقیق ضرورکرنی چاہیے۔

شہزاداکبر نے لکھا کہ ن لیگی وکلا اور رہنماکیسےججزسےفیصلہ سنےبغیرقوم کوگمراہ کن بھاشن ‏دیتےرہے، شہبازشریف کی نکی جئی ہاں کیلئےبےتابی توسمجھ میں آتی ہے، ن لیگی معززوکلاکی ‏بےایمانی سمجھ نہیں آتی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کی ‏جانب سے تحریری فیصلہ جاری ہوا ، شہباز شریف کی ضمانت ایک جج نے منظور اور ایک نے ‏مسترد کر دی تھی جس کے بعد ان کی ضمانت کھٹائی میں پڑ گئی، اب فیصلہ ریفری جج کریں ‏گے۔

شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی، ججز میں اختلاف سامنے آ گیا

شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر جسٹس اسجد جاوید نے اختلافی نوٹ لکھ دیا ہے، جاری ‏فیصلے کے ساتھ 2 رکنی بینچ ارکان نے الگ الگ نوٹ جاری کر دیے ہیں، جسٹس سرفراز ڈوگر نے ‏لکھا کہ اب فیصلہ چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں، اور ریفری جج نامزد کیا جائے گا، ہم نے ‏ضمانت مشاورت سے منظور کی تھی لیکن جسٹس اسجد نے کہا اختلافی نوٹ لکھوں گا۔

تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس سرفراز نے لکھا کہ شہباز شریف آشیانہ کیس میں گرفتار تھے، ‏انھیں اثاثہ کیس میں کیوں گرفتار نہیں کیا گیا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نیب نے انکوائری التوا ‏میں کیوں رکھی، ایک بھی ٹرانزیکشن شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں نہیں ہوئی، نیب نے مانا کہ ‏شہباز شریف کے شریک ملزمان کے نام پر ٹی ٹی آئیں، تو جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو کسی کو ‏مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں