site
stats
پاکستان

کراچی : اسکول میں3سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش، چوکیدار گرفتار

کراچی: ابراہیم حیدری میں اسکول میں 3سال کی بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ، پولیس نے مبینہ زیادتی کے الزام پراسکول کے چوکیدار کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں اسکول میں 3سال کی بچی سے زیادتی کی کوشش ناکام بنادی گئی ، علاقہ مکینوں نے بچی کے شور شرابے پر ملزم کو پکڑ لیا، علاقہ مکینوں نے ملزم کو تشدد کے بعد رینجرز کے حوالے کردیا۔

ایس ایس پی ملیرراؤانوار کا کہنا ہے کہ ابراہیم حیدری میں مبینہ زیادتی کے الزام پر اسکول کے چوکیدار کو گرفتار کرلیا ہے ، چوکیدار نےگزشتہ روزبچی کیساتھ مبینہ زیادتی کوشش کی ، بچی نے گھر جاکر واقعہ والدین کو بتایا تھا۔

بچی کے والدین کا کہنا تھا کہ بچی گھر آئی تواسےبخارتھا،والدین اسپتال لے گئے۔

ایس ایس پی ملیرراؤانوارکا کہنا تھا کہ آج صبح بچی کے والدین نے اسکول پہنچ کر چوکیدار کوپکڑا، اسکول چوکیدارایدھو کوتھانے منتقل کردیا گیا، بچی اور گرفتار چوکیدارکا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

دوسری جانب بچی سے مبینہ زیادتی کیخلاف مشتعل افراد نے اسکول پر دھاوابول دیا اور مشتعل افرادنےاسکول میں توڑپھوڑاورشیشےتوڑدیے۔

وزیرداخلہ سندھ نے ابراہیم حیدری میں بچی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لے لیا، ایس ایس پی ملیر سے تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

وزیراعلیٰ سندھ نے ابراہیم حیدری میں بچی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کرکے سخت کارروائی کا حکم دیدیا اور کہا کہ ناقابل معافی واقعہ ہے، تحقیقات اورکارروائی سےباخبر رکھا جائے۔

ایسےواقعات ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہیں، آصف زرداری

سابق صدر آصف زرداری نے بھی ابراہیم حیدری کےاسکول میں بچی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایسےواقعات ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہیں، وزیر اعلیٰ اس حوالےسےسخت اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ قصور میں کمسن زینب کو پانچ روز پہلے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سفاک درندوں نے بچی کو زیادتی نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا، جس کے خلاف ملک بھر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top