The news is by your side.

Advertisement

گھر میں ایک فرد کرونا کا شکار ہو جائے تو … ماہرین کا نیا انکشاف

اسٹراسبرگ: فرانسیسی محققین نے کرونا وائرس کے شکار افراد کے سلسلے میں ایک نیا انکشاف کر دیا ہے۔

طبی ماہرین نے ایک تحقیقی مطالعے کے بعد کہا ہے کہ کرونا کے شکار شخص کے ساتھ گھر میں رہنے والے تین چوتھائی افراد کے اندر ‘خاموش’ قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اینٹی باڈی ٹیسٹ میں اس کا پتا نہیں چلتا۔

اس تحقیق کے بعد محققین نے کہا ہے کہ کو وِڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد اس سے بھی بہت زیادہ ہو سکتی ہے جو اب تک سامنے آ چکی ہے، کیوں کہ ٹیسٹ میں خون میں پیدا ہونے والی مخصوص اینٹی باڈیز کی تلاش کی جاتی ہے، بہ جائے اس کے کہ ٹیسٹ میں جسم کی یادداشت کو دیکھا جائے یعنی T سیلز جو انفیکشن کے خلاف لڑتے ہیں۔

سائنس دانوں نے دیکھا کہ کرونا کے مثبت شخص کے ساتھ گھر میں رہنے والے 8 افراد میں سے 6 کا کرونا وائرس اینٹی باڈیز ٹیسٹ منفی آ جاتا ہے لیکن جب ماہرین نے ان کے خون کے نمونے ٹی سیل امیونٹی کے لیے ٹیسٹ کیے تو معلوم ہوا کہ انھیں بھی معمولی علامات کے ساتھ کرونا وائرس لاحق ہو چکا ہے۔ ٹی سیل امیونٹی دراصل جسم کی کسی انفیکشن کے لیے گہری دفاع کا حصہ ہے، جس کا تعلق ہڈیوں کے گودے (بون میرو) میں سفید خون کے خلیات سے ہے۔

کرونا مریضوں میں ذائقے اور سونگھنے کی حس کتنے عرصے میں بحال ہوگی؟

ماہرین نے بتایا کہ کچھ مریضوں کے مدافعتی نظام وائرس کے خلاف رد عمل مختلف طریقے سے دے رہے ہیں، جن لوگوں کے خون میں اینٹی باڈیز نہیں ہوتے وہ دراصل زیادہ گہری سطح پر وائرس کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور یہ گہری سطح ٹی سیل رسپانس ہے۔

اس تحقیقی مطالعے سے کرونا وائرس کی نشان دہی کے سلسلے میں ایک نیا امکان سامنے آیا ہے، اس طریقے کو ٹی بی (تپ دق) کے ٹیسٹ کے دوران ٹی سیل کا پتا لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس سے ایک ہی لیب میں سیکڑوں مریضوں پر کارروائی کرنے اور 2 دن کے اندر مؤثر نتائج حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اندازا لگایا گیا ہے کہ اب تک آبادی کے 10 فی صد حصے میں وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہو چکی ہے، اس اندازے کا انحصار خون میں اینٹی باڈیز ٹیسٹس پر ہے، جو خون کے B خلیات پیدا کرتے ہیں۔

ٹی سیلز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جسم کا بڑا ہتھیار ہے، جو ہڈیوں کے گودے میں موجود سفید خون کے خلیات سے پیدا ہوتے ہیں، جب جسم کے اندر امیون سسٹم (قوت مدافعت) کو وائرس کو ختم کرنے کے لیے مزید مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ ٹی خلیات کام شروع کرتے ہیں۔

یہ تحقیقی مطالعہ فرانس کے اسٹراسبرگ یونی ورسٹی اسپتال میں ایسے 7 خاندانوں پر کیا گیا ہے جن کے کرونا کے ٹیسٹس غیر معمولی تھے، خاتون محقق پروفیسر سمیرا فافی کرمر نے بتایا کہ ہمارے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ کرونا کے اینٹی باڈیز کی نشان دہی پر انحصار کرنے والا موجودہ ڈیٹا حقیقی ڈیٹا سے بہت کم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں