The news is by your side.

Advertisement

داعش کی شکست کے بعد عراق میں پہلا الیکشن، رہنماؤں سے مایوس عراقیوں کا جوش و خروش

بغداد: عراق میں داعش کی شکست کے بعد پہلی بار انتخابات منعقد ہوئے، نئے رہنماؤں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عراقیوں نے جوش و خروش کے ساتھ ووٹ ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق آج (بروز  ہفتہ) منعقد ہونے والے انتخابات میں عراقیوں نے ووٹ ڈالتے ہوئے کہا کہ انھیں نئے رہنماؤں سے کچھ زیادہ امید نہیں ہے کہ وہ 2003 میں صدام حسین کے زوال کے بعد کرپشن، خراب اقتصادی حالات اور جنگ سے تباہ حال ملک کو استحکام کے راستے پر گام زن کرسکیں گے۔

انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ عراق اور مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ عراق جو کہ گہری فرقہ وارانہ تقسیم والی جغرافیائی سیاست کا شکار ہے، کو کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ داعش کے خلاف تین سالہ جنگ میں اسے تقریباً سو ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ عراق کے بڑے شمالی شہر موصل کا بڑا حصہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے، ملک میں امن و امان کو تاحال فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات لاحق ہیں جو 2003 سے 2011 کے امریکی قبضے کے دوران 2006 اور 2007 کی خانہ جنگی میں ابھر کر عروج پر پہنچی تھی۔

انتخابات میں جیتنے والے امیدواروں کو ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل سے نکلنے کے امریکی صدر کے فیصلے کے عواقب کا بھی سامنا ہوگا، جس نے عراقیوں کو اس خوف میں مبتلا کردیا ہے کہ ان کا ملک واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازعے کے لیے میدان بن سکتا ہے۔

عراق میں پارلیمیانی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل جاری

وزارت عظمیٰ کے لیے تینوں مرکزی امیدوار حیدر العبادی، نوری المالکی اور شیعہ ملیشیا کے کمانڈر ہادی الامیری شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، جنھیں ایران کی حمایت کی ضرورت ہے، خیال رہے کہ خطے میں سب سے بڑی شیعہ طاقت ہونے کے ناطے ایران کو عراق میں اقتصادی اور فوجی کنٹرول حاصل ہے۔

ایک مقامی عراقی اکسٹھ سالہ قصائی جمال موسوی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ میں انتخابات میں حصہ لینے جارہا ہوں لیکن کوئی فائدہ نہیں، یہاں کوئی تحفظ نہیں، کوئی ملازمت نہیں، کوئی سروس نہیں۔ امیدوار بس اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں، لوگوں کی مدد نہیں کرنا چاہتے۔

واضح رہے کہ عراق میں اکثریت شیعہ عرب کو حاصل ہے جب کہ سنی عرب اور کرد اقلیت میں ہیں۔ داعش کے خلاف مشترکہ طور پر جدوجہد کے باوجود ان تینوں نسلی اور مذہبی گروہوں کے درمیان تقسیم گہرائی میں موجود ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں