site
stats
عالمی خبریں

لندن حملہ: سڑک پر پڑے زخمی اور بے حس راہ گیر

لندن: برطانوی دارالحکومت لندن میں گزشتہ روز برطانوی پارلیمنٹ کے باہر حملے کے بعد انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ایک تصویر نے طوفان اٹھا دیا جس میں ایک باحجاب خاتون سڑک پر پڑے زخمی کے پاس سے لاپرواہ انداز سے گزر رہی ہے، تاہم غیر ملکی میڈیا نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر، لندن حملے کے کچھ ہی دیر بعد گردش کرنے والی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سڑک پر ایک زخمی شخص پڑا ہے، جبکہ اس کے ارد گرد 3، 2 افراد کھڑے اسے پریشان کن انداز سے دیکھ رہے ہیں۔

ایک خاتون زخمی کے قریب بیٹھی مدد کے لیے کسی کو کال کر رہی ہیں۔

london-3

تاہم تصویر کی خاص بات وہ باحجاب خاتون ہے جو بظاہر نہایت لاپرواہ انداز سے وہاں سے گزر رہی ہے۔ خاتون اپنے موبائل میں بھی مصروف ہے۔

تصویر کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر نفرت و تنقید کا ایک طوفان امڈ آیا۔ لوگوں نے مذکورہ تصویر کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اس خاتون کو کوئی پرواہ ہی نہیں، ایک شخص مر رہا ہے اور اس عورت نے موبائل سے نظر ہٹانے کی بھی زحمت نہیں کی۔

ایک شخص نے اس تصویر کو وقت کی سب سے مشہور تصویر قرار دیا۔

لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہاں موجود لوگوں نے ان دیگر افراد کی بھی نشاندہی شروع کردی، جو بغیر حجاب کے ہیں لیکن ان کا طرز عمل بھی کم و بیش مذکورہ خاتون جیسا ہی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے دوسری طرف سے آنے والے ایک اور شخص کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ شخص واقعی کوئی سنگ دل انسان ہے جو اس صورتحال میں بھی پرسکون ہے، یا پھر کیمرے نے کوئی اتفاقیہ لمحہ عکس بند کیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ اگر لوگ اس مسلم خاتون کی تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے اسے لاپرواہ قرار دے رہے ہیں، تو ایسے لوگوں کے لیے یہ دوسری تصویر ہے جس میں ایک دوسرا شخص بھی یہی عمل کر رہا ہے۔

ایک شخص نے خاتون کی حمایت میں ٹویٹ کیا کہ لندن حملے کے بعد یہ خاتون نہایت پریشان ہے۔

ایک اور صارف نے نفرت انگیز تصویر پوسٹ کرنے والے کو جواب دیتے ہوئے کہا، ’تمہیں سارے معاملے کا علم نہیں، ہو سکتا ہے وہ عورت اپنے پیاروں کو اپنے خیریت سے ہونے کی اطلاع دے رہی ہو۔ نفرت پھیلانا بند کرو‘!

دراصل جس شاہراہ کی یہ تصویر ہے، وہ ایک مصروف اور پرہجوم شاہراہ ہے جہاں لاتعداد افراد بسوں کا انتظار کرتے بھی نظر آرہے ہیں۔

وہ سب صورتحال پر پریشان تو ہیں تاہم ان میں سے کچھ ہی ایسے ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر زخمیوں کی مدد کی۔ زیادہ تر افراد نے لا تعلق رہنا ہی پسند کیا اور زخمیوں کے قریب آنے کی زحمت نہیں کی۔

london-2

london-1

یاد رہے کہ گزشتہ روز لندن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ایک حملہ آور نے راہ گیروں کو گاڑی سے کچلا اور ایک پولیس افسر کو چاقو مار دیا تھا۔ حملے میں 5 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ کے باہر فائرنگ، حملہ آور کا چاقو سے حملہ

پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top