The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں قرآنی آیات کا حوالہ دے کر درخت لگانے کی ترغیب

بھارت میں یوں تو مسلمانوں سے نفرت کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہورہا ہے تاہم انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کے احکامات کے بعد سرکاری حکام مجبوراً قرآنی آیات کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔

چند روز قبل عالمی یوم ماحول کے موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران لوگوں کو درخت لگانے پر زور دیا۔

اس موقع پر انہوں نے ریاستی محکمہ جنگلات کی جانب سے شائع شدہ ایک پمفلٹ بھی پڑھا جس میں اسلام سمیت مختلف مذاہب سے منسوب درختوں کے بارے میں لکھا گیا تھا۔

یوگی کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب تحفظ ماحول اور شجر کاری کا درس دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: طالبان کی لوگوں کو درخت لگانے کی تاکید

یوگی کی اس تقریر کے بعد محکمے نے مذکورہ پمفلٹس کو مزید بڑی تعداد میں شائع کروا کے پوری ریاست میں بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہر مذہب کے لوگوں میں درختوں کے تحفظ اور نئے درخت اگانے کا شعور پھیلایا کیا جاسکے۔

ان پمفلٹوں میں نہ صرف قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے بلکہ دیگر مذہبی کتب جیسے انجیل، سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب، ہندوؤں کی وید اور بدھوں کی مقدس کتب سے حوالے دیےگئے ہیں جن میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے تلسی، انجیر، کھجور، زیتون، انگور، انار، پیلو (جس سے مسواک بنائی جاتی ہے) مہندی اور ببول کا ذکر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ان انوکھے درختوں کی کہانیاں سنیں

علاوہ ازیں دیگر مذاہب سے منسوب درختوں کے بارے میں بھی بتایا گیا جیسے انجیل میں انجیر، شہتوت، کھجور، انگور، ایلو ویرا وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ پمفلٹ کے مطابق حضرت آدم ؑ اور بی بی حوا ؑ نے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد انجیر کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپا تھا۔

اسی طرح بدھ مذہب کی کتاب میں آم، پیپل، جامن، ریٹھا اور شیشم کے درختوں کا ذکر ہے اور پمفلٹ کے مطابق یہ درخت گوتم بدھا کے باغ میں موجود تھے۔

محکمے کو امید ہے کہ ان پمفلٹس کی تقسیم کے بعد لوگ ماحول کی حفاظت بھی اپنے ایمان کی طرح کریں گے اور اسے ایک مقدس مذہبی فریضہ جانیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں