پیپلزپارٹی ایم کیوایم کیخلاف سازش کررہی ہے، ڈاکٹرفاروق ستار -
The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی ایم کیوایم کیخلاف سازش کررہی ہے، ڈاکٹرفاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کےرہنماؤں کو سیکیورٹی نہ دینا پیپلزپارٹی کی سازش ہے، اس کی کراچی کی نشستوں پررال ٹپک رہی ہے۔ ہم لوہے کےچنے ثابت ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف سازش کررہی ہے، متحدہ رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنا اسی سازش کا حصہ ہے، دہشت گردوں کو متحدہ کیخلاف چھوٹ دے رکھی ہے، ہماری سیاسی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے۔

کراچی کی نشستوں پر پی پی  کی رال ٹپک رہی ہے

فاروق ستار نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کی کراچی کی نشستوں پررال ٹپک رہی ہے، پیپلزپارٹی ہمیں حلوہ نہ سمجھے ہم لوہے کے چنے ثابت ہونگے، خواجہ اظہار پرحملے کے وقت سیکیورٹی ناقص تھی، سندھ حکومت کو متحدہ رہنماؤں کی سیکیورٹی سے کوئی غرض نہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ہے، ہم سندھ کے شہروں اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، گزشتہ چند ہفتے سے جو غیر یقینی صورتحال ہے اس پرسوالات اٹھتے ہیں۔

ہمارے کئی سیکیورٹی خدشات ہیں، ہم عوام کو متحرک کررہے تھے کہ خواجہ اظہار پرحملہ ہوگیا، بنیادی حقوق اور سلامتی کے معاملات کیلئے ہردروازہ کھٹکھٹایا، ہماری کہیں شنوائی نہیں ہورہی۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں

سربراہ ایم کیوایم پاکستان فاروق ستارنے کہا کہ ہم وفاقی اور صوبائی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں، اس لئے چیف جسٹس، آرمی چیف، ڈی جی رینجرز اوردیگر کو خط لکھا ہے، چند ہفتےسے ہماری زندگیوں کو جو خطرات لاحق ہیں ان سے آگاہ کیا گیا ہے، اس خط کی کاپیاں وفاق صوبائی حکومت کو اس لیے بھیجی کہ ان پر اعتماد نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں۔

ٹیکس لے کر بھی ہمیں حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے

ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ میں مانتا ہوں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، بلدیاتی اداروں کی کارکردگی درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹیکس ہم سے لے کر ہمیں ہی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے، صوبائی حکومت کی کرپشن نے کراچی کو تباہ کردیا ہے، میئراور ڈپٹی میئر کی کارکردگی اچھی نہیں لیکن وسائل کتنے ہیں یہ بھی دیکھیں، جتنے وسائل ہیں اسی میں کام کرکے کارکردگی بہتر بنارہے ہیں۔

خواجہ اظہار کی سیکیورٹی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے

وزیراعلیٰ کا فرض تھا کہ خواجہ اظہار سے سیکیورٹی کا پوچھتے، خواجہ اظہارکو عیدگاہ کے باہرسیکیورٹی دینا وزیراعلیٰ کاکام تھا، ہمیں تواپنی سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی جانوں کی فکرہے، ہم توبلٹ پروف گاڑی میں ہوتے ہیں، اہلکاروں کاکیاہوگا، وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ہمارے رہنماؤں کو زیادہ سیکیورٹی دی گئی ہے، وزیراعلیٰ مناظرہ کرلیں ایم کیوایم پاکستان کوکتنی سیکیورٹی دی گئی ، ایم کیوایم پاکستان کےمرکزی دفتر پر ایک بھی پولیس اہلکار تعینات نہیں۔

دہشت گردوں کوایم کیوایم پاکستان کیخلاف چھوٹ دے رکھی ہے۔ خدا کے لیے ہمارے بارے میں بھی سوچیں، ہمیں کثیرالدھاری تلوار سے کاٹاجارہا ہے، آئین کا بنیادی نکتہ ہے کہ حکومت ہر شہری کی حفاظت کرے، حکومت یہ کام نہ کرسکے تو حکومت کو استعفیٰ دے دینا چاہئیے۔

مردم شماری میں دھاندلی کیخلاف احتجاج سے روکا جا رہا ہے

کراچی کےایک کڑور40لاکھ لوگوں کو گمشدہ کردیا گیا ہے، دھاندلی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا تو ہمیں روکا جارہا ہے، اس کی ایک کڑی خواجہ اظہار پرحملہ بھی ہے، عوامی رابطہ مہم یا لوگوں میں جانے کی کوشش کی تو روکا جارہا ہے، ہماری شرافت کا کب تک فائدہ اٹھایا جائےگا، وفاق صوبائی حکومت سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتی تو بتا دے۔


مزید پڑھیں: لندن سے دھمکیاں مل رہی ہیں، حکومت تعاون کرے، فاروق ستار


 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں