The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی سمجھتی ہے آئین میں ترمیم لازمی ہے: شیری رحمان

اسلام آباد: سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے آئین میں ترمیم لازمی ہے، عدالت نے بھی اب حکومت کو پارلیمان میں جانے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت اور آئین میں ترمیم کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ہم آئین میں ترمیم لازمی سمجھتے ہیں، پارلیمان کے بغیر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی بات نہیں ہو سکتی، لیکن حکومت نے قومی اسمبلی اجلاس منسوخ کر دیا، اور سینیٹ کو تو تالا لگا ہوا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کوئی قانون سازی نہیں کر رہی، ہر تعمیری کام میں اپوزیشن حکومت سے آگے ہے، حکومت سمجھتی ہے یہ آرڈیننس کے ذریعے ملک چلائیں گے، لیکن حکومت کو بگڑے ہوئے سیاسی امور ٹھیک کرنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ’آرمی چیف کی مدت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہوگی‘

یاد رہے کہ فروغ نسیم نے کہا تھا کہ عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ 6 ماہ میں قانون لایا جائے، آرمی چیف کی مدت سے متعلق قانون لایا جائے گا، قانون سازی ہم ایک ہفتے ایک مہینے میں بھی کر سکتے ہیں، تاہم ایک بات کہہ دوں کہ آرمی چیف کی مدت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہوگی۔

انھوں نے کہا تھا کہ دشمن عناصر مختلف باتیں پھیلا کر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تاہم جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، آرمی چیف، عدلیہ اور ایسے اداروں سے متعلق سیاست نہ کی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کر دی ہے اور قانون سازی کے لیے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں