site
stats
اے آر وائی خصوصی

اشاروں‌ کے ذریعے نماز کن صورتوں میں پڑھی جاسکتی ہے؟

نماز اللہ سے کلام کا واحد ذریعہ ہے اس کے روحانی فوائد معرفت کی بلندی تک لے جاتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ یہ عبادت ہرحال میں فرض ہے چاہے میدانِ جنگ ہو یا بسترِ مرگ، محو سفر ہوں یا سکونت پذیر,نماز سے رخصت کی اجازت نہیں، یہ سجدہ آخری نبیﷺ نے وقتِ وصال ادا کر کے دکھایا تو نواسہؓ رسول نے میدانِ کربلا میں سر کٹایا لیکن سجدہ ادا کرنا نہ بھولے۔

نماز کی وقت پر ادائیگی اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اپنے محبوب ترین بندے اور اعلیٰ و ارفع ترین رسولﷺ کی زبانی یہ تنبہیہ فرمائی کہ

بين الرجل وبين الكفر والشرك ترك الصلوة (صحيح مسلم)

(ترجمہ) ترکِ نماز آدمی اور کفر و شرک کے درمیان تفریق کا پیمانہ ہے.

جب کہ دوسری جگہ حضرت بريده بن حصيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

العھد الذي بيننا وبينھم الصلاة ’فمن تركھا فقد كفر

ہمارے (یعنی مسلمانوں) اور اُن کے (یعنی کفار و مشرک) کے درمیان فرق صرف نماز کا چھوڑ دینا ہے۔

یعنی ایک مسلمان اور کافر میں نماز تفریق کرتی ہے مسلمان نماز چھوڑتا نہیں اور کافر و مشرک نماز پڑھتا نہیں یہی وجہ ہے کہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسلمان نہایت محتاط ہوتے ہیں اور اس کے ایک ایک رکن کی ادائیگی کا خاص خیال اور اہتمام کرتے ہیں کہ مبادہ کوئی رکن ادھورا نہ رہ جائے۔

ڈھلتی عمر، بیماری اور دیگر مسائل کے باعث مسلمان مرد و خواتین کو رکوع اور سجدہ کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کمر درد، گھٹنوں میں درد، چکر آنے اور ریڑھ کی ہڈی میں درد کے باعث ان اراکین کی اداائیگی درست طور پر نہیں ہوپاتی۔

اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے اس لیے فقہ میں اس مسئلے کے حوالے سے بھی رعایت موجود ہے ایسے افراد جو کسی بیماری یا تکلیف کے باعث رکوع یا سجدہ نہیں کرپاتے وہ اشاروں کے ذریعے نہ صرف یہ کہ نماز ادا کر سکتے ہیں بلکہ وہ اسی ثواب اور برکات کے مستحق ہوں گے جیسے کوئی نماز عام حالت میں پڑھتا ہے۔

کیا نماز اشاروں کے ذریعے ادا کی جا سکتی ہے؟ 

اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے چینل کیو ٹی وی کے معروف مذہبی پروگرام آپ کے مسائل کا حل میں مفتی ابو بکر نے اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایسی خواتین و حضرات جو رکوع یا سجدہ نہیں کر پاتے ہیں وہ اشاروں کے ذریعے نماز پوری کر سکتے ہیں اور ان کے اجر و ثواب میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئے گی۔

آپ کے مسائل کا حل کے میزبان آشکار داور کی جانب سے ضمنی سوال پوچھنے پر مفتی ابوبکر صاحب نے فرمایا کہ ایسے افراد جنہیں اشاروں سے نماز پڑھنے کی رعایت دی جاتی ہیں مومی کہلاتے ہیں اور مومی اشخاص پر قیام بھی واجب نہیں اگر وہ قیام بیٹھ کر لیٹ کر کرتے ہیں اور رکوع اور سجدہ اشاروں سے کرتے ہیں تو بھی نماز مقبول اور تمام تر برکتوں سے لبریز ہوگی۔

اے آر وائی کیو ٹی وی کا پروگرام آپ کے مسائل کا حل 

واضح رہے کہ اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کا دین کی ترویج و تبلیغ کرنے والا پاکستان کا پہلا دینی چینل کیو ٹی وی کا پرگرام آپ کے مسائل کا حل ہر جمعرات رات آٹھ بجے پیش کیا جاتا ہے جس کے میزبان آشکار داور اور مہمان عالم دین مفتی ابو بکر صاحب ہوتے ہیں جو قرآن اور سنت کی روشنی میں عوام کے دینی و دنیاوی مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top