سعدی کی غزلیں ان کے اپنے مزج کا آئینہ ہیں اور فارسی غزل سرائی میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے قصیدے بھی لکھے ہیں جو فارسی قصیدہ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کئے جا سکتے۔ لیکن جو سعدی آج ساری دنیا میں مشہور ہے وہ ’’گلستان‘‘ اور’’بوستان‘‘ کا سعدی ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سعدی کی شخصیت جیسی ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ میں اجاگر ہوئی، ویسی نہ غزل میں ہو سکی نہ قصیدے میں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ خود سعدی کا مزاج اور ان کے زمانہ کے مزاج کی سچی نمائندگی کے لئے ’’گلستان‘‘ اور’’بوستان‘‘ ہی کے عنوان کی تخلیقات زیادہ موزوں تھیں۔ جامی نے ’’لوائح‘‘ کے نام سے عارفانہ نثری ملفوظات بھی لکھے اور رباعیاں بھی کہیں اور ان کی غزلیں بھی اپنے اندر بڑا رس رکھتی ہیں۔ ان کی غزلوں کے متفرق اشعار اب تک فارسی جاننے والوں کے درمیان ضرب المثل ہیں۔ مگر کیا ان کا کوئی ادبی کارنامہ ان کی ’’یوسف و زلیخا‘‘ سے زیادہ مطبوع و مقبول اور زباں زد خواص و عوام ہو سکا۔ وہ اب تک ’’یوسف و زلیخا‘‘ کے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ’’یوسف و زلیخا‘‘ شاعر اور شاعر کے عہد دونوں کے مزاجوں کو ایک آہنگ بنا کر پیش کرتی ہے۔
خیام اپنے زمانہ کے علم ریاضیات اور علم ہیئت کا بہت بڑا ماہر تھا۔ وہ سرکاری ستارہ شناس بھی تھا اور بڑا رسوخ اور اقتدار رکھتا تھا لیکن جس خیام کی سارے عالم میں دھوم ہے وہ ’’رباعیات‘‘ کا خیام ہے۔ جس شخص نے اتنی رباعیاں کہہ ڈالی ہوں، کیا اس نے شاعری کی کسی دوسری صنف میں ایک شعر بھی نہ کہا ہوگا؟ گورکن محققین سے کہئے تو شاید وہ پتہ لگا دیں گے کہ خیام سے قصیدہ اور غزل کے بھی کچھ نمونے یادگار ہیں۔ لیکن ہم تو اس کو رباعیات سے جانتے اور مانتے ہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ یورپ نے خیام کو لذتیت (Hedonism) کا علم بردار سمجھ کر قبول کیا اور اس کا ڈھنڈورا پیٹا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مغربی ممالک میں ’’ابیقوریت‘‘ (Epicureanism) سستی لذت پرستی اور عیش کوشی کی مترادف سمجھ لی گئی۔ حالانکہ بیچارہ ابیقورس اور اس کے شاگردان رشید لذت پرستی سے کوسوں دور تھے۔
خیام نے اپنی رباعیات میں زندگی کا جو تصور پیش کیا ہے اس کو مجموعی طور پر عارفانہ لا ادریت (Mystial Agnosticism) کہہ سکتے ہیں اور یہ خیام اور اس کے عہد کا مزاج تھا جس کے لئے رباعی سے زیادہ موزوں نظم کی کوئی صنف یا ہیئت نہیں ہو سکتی تھی۔ رباعی زندگی کے کلیات و نظریات کے مجذوبانہ (Rhapsodic) اظہار کے لئے سب سے زیادہ مناسب صورت ہے۔
حافظ نے، جہاں تک مجھے معلوم ہے، دو مختصر مثنویاں ایک بے عنوان اور دوسری ’’ساقی نامہ‘‘ کے عنوان سے کہی ہیں۔ دونوں نامکمل معلوم ہوتی ہیں۔ اس نے بہت سے قطعات اور رباعیات بھی کہیں ہیں۔ اس نے پانچ مختصر قصیدے بھی لکھے ہیں جو پکار پکار کر کہتے ہیں کہ شاعر قصیدہ میں بالکل معذور ہے۔ ہم کیا ساری دنیا جس حافظ کو سینے سے لگائے ہوئے ہے، وہ غزل اور وہ بھی ایک خاص انداز کی غزل کا حافظ ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسی غزلیں حافظ نے کہی ہیں وہ نہ صرف اس کے اپنے مزاج کا عکس ہیں بلکہ اس کے عہد کے مزاج کی بھی اگر مکمل آئینہ داری ہو سکتی تھی تو اسی طرز کی غزل سرائی میں ہو سکتی تھی۔
(ممتاز ترقی پسند نقاد، اور افسانہ نگار مجنوں گورکھپوری کے تنقیدی مضمون "نظم سے نثر تک” سے چند پارے)


