The news is by your side.

پی ڈی ایم کے حربے ناکام، پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب برقرار

لاہور: (رپورٹ: الفت مغل، خواجہ نصیر) پنجاب اسمبلی اجلاس میں وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے، پرویز الٰہی 186 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رہے ہیں، اے آر وائی نیوز سے سب سے پہلے یہ خبر بریک کی تھی کہ آج اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اعتماد کے ووٹ کی قرارداد میاں اسلم اقبال اور راجہ بشارت کی جانب سے پیش کی گئی ، ن لیگ اور پی پی ارکان کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی گئی جبکہ نمبر پورے ہونے کے دعوے کرنے والے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ن لیگی رہنما عطا رڑ اور اعظم نذیر ایوان سے چلے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کااسمبلی میں خطاب

پرویز الٰہی نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھرپور اعتماد پر عمران خان، پی ٹی آئی ، آزاد ارکان، ق لیگ ممبران کا مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کا حکم غیرآئینی تھا، چند دنوں سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ملزم یہاں تماشا لگا کر بیٹھا تھا، شہباز شریف نے بحیثیت وزیراعطم بھیک مانگ کر ہماری جگ ہسائی کروائی۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے بعد ایک ہی لیڈر ہے جو عمران خان ہے، یہ سمجھتے تھے لوگ بک جائیں گے ارکان خریدنا بیچنا ن لیگ کی عادت ہےْ

 اعتماد کے ووٹ کی قرارداد کے علاوہ کوئی بزنس نہیں ہوسکتا، اسپیکر سطبین خان

 

اسپیکر سبطین خان کا کہنا تھا کہ آج اعتماد کے ووٹ کی قرارداد کے علاوہ کوئی بزنس نہیں ہوسکتا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ایوان میں پانچ منٹ کے لیے ایوان سے باہر موجود ارکان کو بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی، بعدازاں وقت مکمل ہونے پر ایوان کے دروازے بند کردیے گئے۔

ہمارے ارکان کی تعداد ایوان میں 187 ہے، میاں محمود الرشید

میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ ہمارے ارکان کی تعداد ایوان میں 187 ہے، ارکان چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کا اظہار کریں گے، ایک نوٹس دے کر اعتماد کے لیے رائے شماری کروائیں گے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد پوری ہے جبکہ اپوزیشن کا مورال ڈاؤن ہے، اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا جارہا ہے اور کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسمبلی میں کرسیاں چل گئیں، ن لیگ کی ہنگامہ آرائی

اسمبلی اجلاس کے دوران کرسیاں چل گئیں مسلم لیگ ن کے ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی ہے جبکہ حکومتی ارکان نے اسپیکر کے گرد حصار بنالیا ہے۔

اس سے قبل پنجاب اسمبلی کااجلاس12بج کر5منٹ تک ملتوی کیا گیا،تاریخ تبدیل ہونےکےباعث اجلاس چندمنٹ کےلیےملتوی کیاگیا۔

وزیراعلیٰ کے عدم اعتماد کے ووٹنگ کے موقع پر حکومتی ارکان کی بڑی تعداد ایوان میں موجود،اپوزیشن کےصرف15ارکان موجود ہیں۔

کل ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارے پاس سرپرائز ہے، واثق قیوم

 ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم نے کہا تھا کہ ہمارا نمبر پورا ہے تسلی ہے، ہم نے186کا نمبر کراس کرلیا ہے۔

واثق قیوم نے کہا کہ اعتماد کے ووٹ کیلئے اسے ایجنڈے پر لانا ضروری ہے، کل ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارے پاس سرپرائز ہے، بس سرپرائزکے لیے ایک موقع چاہیے تھا وہ موقع ہمیں مل گیا ہے۔

واثق قیوم کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے نمبرز سے متعلق جو کہا تھا میں بھی تصدیق کرتا ہوں، کل وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد کے لیے قرارداد بھی پیش کی جاسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں