The news is by your side.

Advertisement

ق لیگ کو وزرات اعلیٰ دینے پر لیگی ارکان اسمبلی کو شدید تحفظات

لاہور: گذشتہ روز متحدہ اپوزیشن نے تُرپ کا پتہ استعمال کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو وزرات اعلیٰ پنجاب دینے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر اب ن لیگی ارکان اسمبلی کے تحفظات سامنے آگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے ق لیگ رہنما پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کی پیشکش پر نون لیگ کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ایک بار پھر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق (ن) لیگی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بناکر ن لیگ کی مشکلات بڑھ جائیں گی، چار سال سے لیگی ارکان صوبائی اسمبلی نےمشکلات دیکھیں مگرپارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا۔

ذرائع کے مطابق لیگی ارکان اسمبلی کا شکوہ ہے کہ حمزہ شہباز نے دو سال قید کاٹی مگر ق لیگی اراکین حکومتی بینچ انجوائےکرتے رہے، پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے سے بہتر تھا کہ ایک سال اور اپوزیشن میں بیٹھے رہیں۔

ارکان اسمبلی کے شدید تحفظات کے باعث حمزہ شہباز کی جانب سے آج بلایا جانے والا پارلیمانی اجلاس بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر لیگی رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

لیگی ارکان اسمبلی پر پابندی عائد

دوسری جانب موجودہ سیاسی صورت حال میں حمزہ شہباز نے پارٹی ارکان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

چیف وہپ ن لیگ خلیل طاہر سندھو نے میڈیا کو بتایا کہ پابندی پارٹی قیادت کے حکم پر لگائی گئی ہے، پارٹی رہنماؤں نے تمام ارکان کو پیغام دیا ہے کہ کوئی رکن سیاسی صورتحال کے پیش نظر بیرون ملک نہ جائے۔

نواز شریف کیوں (ق) لیگ کو وزرات اعلیٰ دینے پر راضی ہوئے؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کو وزرات عظمیٰ پنجاب دینے کے لئے مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے نواز شریف کو قائل کیا، آصف زرداری نے نواز شریف کو پیغام دیا کہ بڑے مقصد کیلئے چھوٹی قربانی دیں چند ماہ کی بات ہے۔

ذرائع ن لیگ کے مطابق مذکورہ شرط نہ ماننے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ذرائع فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا اصرار تھا کہ ق لیگ پنجاب میں ن لیگ کیخلاف کوئی اقدام نہیں کریگی، جس پر مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے یقین دہانی کرائی، دونوں رہنماؤں کی ضمانت کےبعد ن لیگ بھی مشروط طور رضامند ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں