ڈان لیکس کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے‘ پرویز رشید -
The news is by your side.

Advertisement

ڈان لیکس کی رپورٹ پبلک ہونی چاہیے‘ پرویز رشید

اسلام آباد : سابق وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ڈان لیکس کی رپورٹ بالکل پبلک ہونی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کے ڈان لیکس کی رپورٹ کو پبلک کرنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید نے کہا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ بلکل منظرعام پرآنی چاہیے۔

سابق وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ میری نوکری تو پہلے ہی چھین لی گئی تھی اور ڈان لیکس پر جے آئی ٹی بننے سے پہلے ہی مجھے نکال دیا گیا تھا۔

پرویز رشید نے کہا کہ جنہوں نے ڈان لیکس رپورٹ لکھی ہوگی انہوں نے میرے نکالے جانے کی وجہ کو اچھی طرح ثابت کیا ہوگا۔


اپنی وزارت داخلہ کے ہوتے ہوئے ہمارے خلاف فیصلے آئے‘ پرویز رشید


خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیراطلاعات پرویز رشید کی جانب سے یہ بیان سامنےآیا تھا کہ اپنی وزارت داخلہ کے ہوتے ہوئے ہمارے خلاف فیصلے ہوئے۔


پرویزرشید ڈان لیکس رپورٹ منظرعام پرلانے کا مشورہ دیں، ترجمان چوہدری نثار


بعدازاں سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پرویزرشید معصوم ہیں تو ڈان لیکس رپورٹ منظرعام پرلانےکامشورہ دیں، معلوم نہیں کچھ لوگوں نےاپنی غلطی کابوجھ وزارت داخلہ پر کیوں ڈال دیا۔


ڈان لیکس رپورٹ منظرعام پرآنی چاہیے، چوہدری نثار


اس سے قبل گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی خبر لیک نہیں کی، غلط فہمیوں کو دور کرناچاہتا ہوں، ڈان لیکس رپورٹ منظرعام پرآنی چاہیے۔


ڈان لیکس رپورٹ کا اجراء حکومت کا اختیار ہے ‘ ڈی جی آئی ایس پی آر


یاد رہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ ڈان لیکس پر فیصلے کا اختیار وزیراعظم کے پاس تھا اور ڈان لیکس یا کوئی اور انکوائری کو دوبارہ کھولنا حکومت کی اپنی صوابدید پر ہے اس میں پاک فوج کا کوئی اختیار یا کردار نہیں ہے۔


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید وزارت سے برطرف


واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو وزارت سے برطرف کردیا گیا تھا اور اس حوالے سے سرکاری اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں